زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال کے دوران حاصل شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
81688
| تاریخ :
2025-02-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

سال کے دوران حاصل شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں نے کچھ رقم میزان سرٹیفیکیٹ میں انوسٹ کی ہوئی ہے ۔ اب اس پر زکوۃ کس طرح ادا ہو گی کہ مجھے اس کا منافع سال بعد ملے گا، کچھ رقم کے چھ مہینے ہو گئے ہیں، کچھ کےاس سے کم یا زیادہ ۔ تو مجھے اس کے منافع کو بھی شامل کرنا ہوگا جس پر چھ مہینے گزر گئے یا صرف اصل رقم کو شامل کرنا ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک دفعہ صاحبِ نصاب بن جانے کے بعد درمیانِ سال میں أموالِ زکوٰۃ میں سے مزید کچھ آجانے پر اس پر الگ سے سال گزرنا لازم نہیں، بلکہ سال کے اختتام پر ملکیت میں موجود ٹوٹل أموالِ زکوٰۃ پر ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا لازم ہے، چنانچہ سائل اگر پہلے سے صاحبِ نصاب ہوتو سال کے اختتام پر دیگر أموالِ زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت درمیانِ سال میں جتنا پیسہ حاصل ہواہو، اس کو بھی شامل کرنا ضروری ہے، اس پر الگ سے سال گزرنا شرط نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الفتاوى الهندية: ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك (1/ 175)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81688کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات