اگر کوئی رقم کسی مقصد جیسے بچوں کی فیس وغیرہ کےلئے رکھی ہوں تو اس پر زکوۃ ہوگی؟
واضح ہو کہ روز مرہ اخراجات جیسے بچوں کی ماہانہ اسکول فیس، یوٹیلیٹی بلز اور گھریلو ضروریات وغیرہ کےلئے رکھی ہوئی رقم پر شرعا زکوۃ لازم نہیں ہوتی، اس لئے ادائیگی زکوۃ کی تاریخ میں ان ضروریات کے لئے مختص کردہ رقم اموال زکوۃ سے منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم پر ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی، البتہ ایسی رقم جو مستقبل میں بچوں کی ضروریات اور تعلیمی اخراجات وغیرہ کےلئے جمع کی جارہی ہو، فی الوقت اس کی ادائیگی لازم نہ ہوئی ہو، تو اس طرح کی رقم ادائیگی زکوۃ کے وقت منہا نہ ہوگی بلکہ دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ اس رقم پر زکوۃ لازم ہوگی۔
کما فی الدر المختار: أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري اھ (ج 2صـــــ 262 کتاب الزکاۃ ط : ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضا تحت ( قولہ : وفسرہ ابن الملک ) ( الی قولہ ) فالاولیٰ التوفیق بحمل ما فی البدائع و غیرھا ، علی ما اذا امسکہ لینفق منہ کل ما یحتاجہ فحال الحول و قد بقی معہ منہ نصاب فانہ یزکی ذلک الباقی و ان کان قصدہ الانفاق منہ ایضا فی المستقبل لعدم استحقاق صرفہ الی حوائجہ الاصلیۃ وقت حولان الحول ( الی قولہ ) و کذا ما سیاتی فی الحج من انہ لوکان لہ مال و یخاف العزوبۃ یلزمہ الحج بہ اذا خرج اھل بلدہ قبل ان یتزوج ، و کذا لو کان یحتاجہ لشراء دار او عبد الخ ( ج 2 صـــــ 263 کتاب الزکاۃ ط : ایچ ایم سعید ) ۔