زکوۃ و نصاب زکوۃ

گاڑی خریدنے کیلئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
81802
| تاریخ :
2025-03-04
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گاڑی خریدنے کیلئے رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم! میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں نے اپنی زیر استعمال کار صرف ایک ماہ قبل فروخت کر دی تھی، تاکہ نئی گاڑی خریدی جا سکے۔ لیکن کچھ غیر متوقع حالات کی وجہ سے نہیں خرید سکا۔ درمیان میں رمضان شروع ہو چکا ہے اور میں عام طور پر پہلے رمضان کو سونے کا ریٹ چیک کرنے کی مشق کرتا ہوں ۔تاکہ اپنی زکوٰۃ کا حساب لگا سکوں۔ تو کیا مجھے اپنے ساتھ بچائی گئی گاڑی کی رقم پر بھی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ میں نے نئی گاڑی رمضان کے دوسرے دن خریدی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ روزہ مرہ اخراجات سے زائد کیش رقم خواہ کسی بھی مقصد کےلئے رکھی ہو، لیکن ادائیگی زکوۃ کی تاریخ میں موجود ہونے کی صورت میں اس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے، لہذ ا سائل اگر پہلے سے صاحب نصاب ہو اور رمضان المبارک کی کسی تاریخ میں ادائیگی زکوۃ کا اہتمام کرتاہو، اور ادئیگی زکوۃ کی تاریخ میں گاڑی خریدنے کی غرض سے رکھی ہوئی رقم سائل کے پاس موجود رہے، تو اس صورت میں دیگر اموال کے ساتھ اس رقم پر بھی ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابوداوٴد: عن علي عن النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- قال: فإذا کانت لک مائتا درہمٍ وحال علیہا الحول ففیہا خمسة دراہم ولیس علیک شيء یعنی في الذہب حتی تکون لک عشرون دینارًا فإذا کانت لک عشرون دینارًا وحال علیہا الحول ففیہا نصف دینارٍ فما زاد فبحساب ذلک․ ( 221/1)
و في بدائع الصنائع للکاساني: أما الأثمان المطلقة وهي الذهب والفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم ... وأما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم، وسواء كان يمسكها للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئًا. (17/2)
وفی الھندیۃ : الزکاۃ فرض علی المخاطب اذا ملک نصابا نامیا حولا کاملا الخ ( کتاب الزکاۃ ج 1 صـ 245 ط : سعید )
و فی التاتارخانیۃ : الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملکا تاما و حال علیہ الحول ، المضمرات : الملک التام أن یکون ملکہ ثابتا من جمیع الوجوہ و لا یتمکن النقصان فیہ الخ ( کتاب الزکاۃ ج 2 صـ 217 ط : ادارۃ القرآن )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81802کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات