اگر میرے پاس 50 گرام سونا اور 50 ہزار رو نقد روپے ہیں جن پر ایک سال گزر گیا ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں اور اگر ہوگی تو کتنی؟
واضح هوكه زکاۃلازم ہونے کے لیے نصاب پر ایک قمری سال گزرنا شرط ہےاور زکاۃ کا نصاب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو، یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا لازم ہے۔
لهذاصورت مسئولہ میں اگرسائل کے پاس پچاس گرام سونے کے ساتھ پچاس ہزارروپےنقد رقم بچت میں موجود ہواوران دونوں کی قیمت ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہواوراس پرایک قمری سال بھی گزرچکاہوتو اس صورت میں سائل کےصاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سےاس پرکل مال میں سے ڈھائی فیصدکےاعتبارسے زکاۃ ادائیگی واجب ہوگی،ورنہ نہیں۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا ... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة؛ و لأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال.
و أما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنىً فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة، ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولا يعتبر اختلاف الصورة، كما إذا كان له أقل من عشرين مثقالاً وأقل من مائتي درهم وله عروض للتجارة ونقد البلد في الدراهم والدنانير سواء فإن شاء كمل به نصاب الذهب وإن شاء كمل به نصاب الفضة، وصار كالسود مع البيض، بخلاف السوائم؛ لأن الحكم هناك متعلق بالصورة والمعنى وهما مختلفان صورة ومعنى فتعذر تكميل نصاب أحدهما بالآخر (2/ 19)