السلام علیکم
میں اے سی سی کا طالب علم ہوں اور میری عمر 21 سال ہے اور میں فی الحال پڑھائی میں مشغول ہوں اور بےروزگار ہوں اور میرے ابو 2013 میں وفات پا چکے ہیں وفات کے وقت میرے ابو کے نام ایک ساڑھے چار مرلے کا پلاٹ جو کہ نظام پور گجرانوالہ میں واقع ہے ابو کے نام پر تھا جو کہ والدہ کے نام پر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا اور ایک پانچ مرلے کا مکان جو کہ والدہ کے اپنے نام پر ہے وہ فاروقہ میں واقع ہے یہ دونوں پلاٹ فی الحال سیل کی نیت سے پڑے ہیں اور مبلغ پانچ لاکھ روپیہ بینک میں جمع ہے اور اس کے علاوہ پانچ جانور جس میں تین گائیں اور دو چھوٹے جانور ہیں وہ بھی سیل کی نیت سے رکھے ہوئے ہیں ۔اب سوال میرا یہ ہے کہ کیا ان سب چیزوں پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ہوگی تو اس کی کیلکولیشن کا کوئی آسان سا حل بتا دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے ترکہ میں جو پلاٹ اور جانور وغیرہ چھوڑے ہیں اس میں سب ورثاءحسبِ حصصِ شرعیہ شریک ہیں، اور جب تک یہ پلاٹ اور جانور فروخت کر کے اس کی رقم ورثاء کے حوالے نہ کر دی جائے ،تب تک کسی وارث پر اس پلاٹ اور جانوروں میں موجود حصہ کو اموال زکوۃ میں شمار کر کے اس کی زکوۃ دینا لازم نہ ہوگا ،اسی طرح بینک میں موجود رقم کی تقسیم بھی اگر قانونی دشواریوں کی وجہ سے مؤخر ہو رہی ہو، تو جب تک یہ رقم باقاعدہ تقسیم کر کے ہر وارث کے قبضہ میں نہیں آتی، اس وقت تک اس رقم کی بھی ادائیگی زکوۃ لازم نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: والأصل أن ما عدا الحجرین والسوائم إنما یزکي بنیة التجارة الخ۔ (کتاب الزکاة،ج:3، ص:194، ط: سعید)۔
وفی فی الدر المختار: (وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة (لا ما ورثه ونواه لها) لعدم العقد إلا إذا تصرف فيه أي ناويا فتجب الزكاة لاقتران النية بالعمل الخ۔ (کتاب الزکاة،ج:2، ص:272، ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين۔ وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات الخ۔ (کتاب الزکاة،ج: 1،ص: 179،ط: رشیدیة)۔
وفیہ ایضاً: ومن کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه الخ۔ (کتاب الزکاة،ج:1، ص:175، ط: رشیدیة)۔
وفیہ ایضاً: ليس في أقل من ثلاثين من البقر صدقة فإذا كانت ثلاثين سائمةً ففيها تبيع أو تبيعة الخ۔ (کتاب الزکاة،ج:1، ص:177، ط: رشیدیة)۔
وفی الموسوعة الفقهية الكويتية: اتفق الفقهاء على أنه يشترط في زكاة مال التجارة أن يكون قد نوى عند شرائه أو تملكه أنه للتجارة، والنية المعتبرة هي ما كانت مقارنةً لدخوله في ملكه؛ لأن التجارة عمل فيحتاج إلى النية مع العمل، فلو ملكه للقنية ثم نواه للتجارة لم يصر لها، ولو ملك للتجارة ثم نواه للقنية وأن لايكون للتجارة صار للقنية، وخرج عن أن يكون محلاً للزكاة ولو عاد فنواه للتجارة لأن ترك التجارة، من قبيل التروك، والترك يكتفى فيه بالنية كالصوم الخ۔ (القسم الثاني: الأصناف التي تجب فيها الزكاة وأنصبتها،شروط وجوب الزكاة في العروض، الشرط الثالث: نية التجارة،ج: 23، ص:271،ط: دارالسلاسل)۔