زکوۃ و نصاب زکوۃ

پانچ تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
82686
| تاریخ :
2025-05-11
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پانچ تولہ سونے پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم
میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ میرے پاس صرف 5 تولہ سونا اور 7000 سے کم رقم ہے۔ چاندی بھی نہیں ہے تو کیا آپ میری زکوٰۃ بنےگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ صرف سونا موجود ہونے کی صورت میں سونے پر زکاۃ کے وجوب کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، ساڑھے سات تولہ سونے سے کم پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ اگر سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو، لیکن ساتھ میں کچھ ضرورت سے زائد نقدی بھی ہو تو پھر سونے کی مالیت اور نقدی کو ملاکر مجموعی رقم اگر چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ کی قیمت ) تک پہنچ جائے تو اس رقم کا چالیسواں حصہ (ڈھائی فیصد) زکاۃ واجب ہوگی۔لہذاصورتِ مسئولہ میں اگرسائلہ کےپاس صرف پانچ تولہ سونا ہو، نقدی صرف سات ہزار روپے ذاتی خرچ کے لیے ہو، ضرورت سے زائد نہ ہو، تو اس صورت میں صرف پانچ تولہ سونا پر زکاۃ لازم نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ‌: ‌فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌ذهب ‌مفرد ‌فلا ‌شيء ‌فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مقوما بعشرة دراهم.
وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال» وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابا عندنا(2/ 18)
وفی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : وتضم ‌قيمة ‌العروض ‌إلى ‌الثمنين ‌والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي.(1/ 179)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82686کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات