زکوۃ و نصاب زکوۃ

گھر کی پرانی اشیاء بطور زکوۃ مدرسہ کو دینا

فتوی نمبر :
83044
| تاریخ :
2025-05-26
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گھر کی پرانی اشیاء بطور زکوۃ مدرسہ کو دینا

زکوٰۃ کی شرعی حیثیت سے متعلق سوال

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

عرض یہ ہے کہ میرے پاس کچھ استعمال شدہ اشیاء موجود ہیں، جیسے:

پرانی فریج

فریزر

ڈسپنسر

واشنگ مشین


میں چاہتا ہوں کہ یہ اشیاء زکوٰۃ کی نیت سے مدرسے کو دوں، تاکہ طلباء کے استعمال میں آ سکیں۔

ادب کے ساتھ سوال ہے کہ:

1. کیا مدرسہ مستحق طلباء کا شرعی وکیل بن کر ان اشیاء کو زکوٰۃ کے طور پر قبول کر سکتا ہے؟


2. اور کیا اس طریقے سے میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟


3. اگر اس کی اجازت ہے، تو کیا آپ کی طرف سے ملکیت کا انتقال مستحق طالبعلم کی طرف کیا جاتا ہے؟



رہنمائی فرما دیں تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق عمل کر سکوں۔

جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعت میں استعمال شدہ اشیاء کو زکوۃمیں دینا اگر چہ جائز ہے، مگر اس میں شرط یہ ہے کہ وہ چیز انتفاع کے قابل ہواور اسے مارکیٹ کے مطابق زکوۃ میں دیدی جائے،تاہم زکوۃ کی مد میں دی جانے والی اشیاء چونکہ اللہ کے حکم کی تعمیل کے خاطر بطور صدقہ دی جا تی ہیں،اور صدقہ میں دی جانے والی اشیاء کاعمدہ اور بہتر ہونا مستحسن ہیں، اس لئے بطور زکوۃ دینے کیلئے ایسی اشیاء کا انتخاب کرنا جو عمدہ اور سامنے والے کی ضرورت کے عین مطابق ہو، زیادہ بہتر اور باعث اجر وثواب ہے، لہذا سائل کےپاس موجود اشیاء واشنگ مشین ڈسپنسر وغیرہ اگر اچھی کنڈیشن میں اور قابل استعمال ہوں ،تو ان اشیاء کو مدرسہ میں پڑھنے والے مستحق طلبہ کو براہ راست یا ان کی جانب سے متعین کردہ وکلاء کو بغیر کسی قید اور شرط کے دینے سے ان اشیاء کی مارکیٹ کے ریٹ کے مطابق زکوۃ اداہو جائے گی،اور قبضہ کے بعد مستحق افراد حسب منشاہ اسے استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔اور سائل کے لئے یہ شرط رکھنا کہ یہ اشیاء مدرسہ میں استعمال ہوں گی،یہ شرعا درست نہیں،ورنہ یہ زکوۃ نہیں وقف کہلائے گا،جس سے زکوۃکی ادئیگی درست نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار:وجاز دفع القيمة في زكوة و عشر و خراج و فطرة و نذر و كفارة غير الاعتاق و تعتبر القيمة يوم الوجوب (باب الزکوۃ،ج:2،ص:285،ط:سعید)
وفی ردالختار:ولو خلط زكاة موكليه ضمن وكان متبرعاً، إلا إذا وكله الفقراء ، (وتحت قوله: إذا وكله الفقراء)؛ لأنه كلما قبض شيئاً ملكوه وصار خالطاً مالهم بعضه ببعض ووقع الزکوۃ عن الدافع(باب الزکوۃ ،ج:2،ص:290،سعید)۔
وفی بدائع الصنائع:وأما صفة الواجب فهو أن ‌وجوب ‌المنصوص ‌عليه من حيث إنه مال متقوم على الإطلاق لا من حيث إنه عين فيجوز أن يعطي عن جميع ذلك القيمة دراهم، أو دنانير، أو فلوسا، أو عروضا، أو ما شاء وهذا عندنا(باب الزکوۃ،ج:4،ص:43،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83044کی تصدیق کریں
0     271
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات