السلام علیکم ورحمة الله وبركاته،
محترم مفتی صاحب! بندہ ائرفورس سے ریٹائرڈ ہوا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت مجھے کمیوٹ (commute) کی مد میں 45 لاکھ روپے ملے، جن پر اب ایک سال سے زائد مدت گزر چکی ہے۔ میں نے یہ تمام رقم مختلف حلال ذرائع، بالخصوص سولر پلانٹ میں بطور سرمایہ کاری لگا دی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے مجھے ماہانہ تقریباً 45،000 سے 56،000 روپے تک منافع حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے فوجی فاؤنڈیشن اسپتال سے ماہانہ 42،000 روپے تنخواہ ملتی ہے، اور 66،000 روپے پنشن کی صورت میں موصول ہوتے ہیں۔ یوں میری مجموعی ماہانہ آمدنی تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زائد ہو جاتی ہے۔ میرے پاس ذاتی رہائش کا گھر نہیں ہے، اور میں کرایے کے مکان میں رہتا ہوں۔ اس کے علاوہ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروری ضروریات بھی زیرِ کفالت ہیں۔
ان تمام حالات کے پیشِ نظر میں مؤدبانہ طور پر چند اہم شرعی رہنمائی کے سوالات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:
کیا مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اگر ہاں، تو وہ اصل سرمایہ پر ہے یا صرف منافع پر؟
کیا قربانی مجھ پر واجب ہے، حالانکہ ذاتی مکان نہیں ہے اور گھریلو اخراجات بھی خاصے ہیں؟
کیا حج میرے اوپر فرض ہو چکا ہے؟ یا اہل و عیال کی ضروریات کے پیشِ نظر اس میں تاخیر کی گنجائش ہے؟
امید ہے کہ آپ ان امور پر قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں گے تاکہ میں اپنی دینی ذمہ داریاں درست انداز میں ادا کر سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء
اگر کسی شخص کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو ساڑھے باون تولہ چاندی، یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی یا سامانِ تجارت ہو، یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے شخص پر سال پورا ہونے پر قابلِ زکات مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہوتاہے۔لہذا،سائل نے ریٹائرمنٹ پرجو رقم (45 لاکھ روپے) حاصل کی، اگر وہ اب بھی مکمل یا جزوی طور پر سائل کی ملک میں بقدرنصاب موجود ہو، خواہ سرمایہ کاری کی شکل میں ہو یانقدمنافع کی شکل میں ، اور اس پر قمری سال گزر چکا ہو، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
اسی طرح اگرسائل ذوالحجہ کی 10، 11، 12 تاریخوں میں مالکِ نصاب ہو، یعنی اس کے پاس ضروریات اصلیہ سے زائد اتنی مالیت ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا زائد ہو، اس پرقربانی واجب ہوگی ،اگرچہ وہ ذاتی مکان کی بجائے کرایہ کے مکان میں رہائش پذیرہو۔
جبكه کسی شخص پر حج فرض ہونے کے لیے لازمی ہے کہ اس کے پاس حوائج اصلیہ (اپنااور اہل وعیال کا نفقہ اور رہائش کے اخراجات)سے زائد اس قدر مال بچتا ہو جس سے وہ حج پر آنےوالے اخراجات پورے کرسکے،لہذا،جس شخص پر حج فرض ہو جائے اس پر لازم ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو حج ادا کر لے،ورنہ بلاعذرتاخیرپرگناہ گارہوگا۔اس لیے سائل کے پاس اگرحوائج اصلیہ سے زائداس قدرمال بچتاہو جس سے وہ حج کے اخراجات برداشت کرسکتاہو تواسے بلاتاخیرفریضہ حج اداکرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
کما فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي :(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه۔۔۔۔۔۔۔(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم.(2/ 259)
و فی المبسوط» للسرخسي : وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده»(2/ 172)
و فی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» : وشرائطها : الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى) خانية (وسببها الوقت) وهو أيام النحر»
(قوله وشرائطها) أي شرائط وجوبها، ولم يذكر الحرية صريحا لعلمها من قوله واليسار، ولا العقل والبلوغ لما فيها من الخلاف كما يأتي، والمعتبر وجود هذه الشرائط آخر الوقت وإن لم تكن في أوله(6/ 312)
وفي الهداية في شرح بداية المبتدي» :" الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاصلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا " وصفه بالوجوب وهو فريضة محكمة ثبتت فرضيته بالكتاب وهو قوله تعالى: {ولله على الناس حج البيت} [آل عمران: 97] الآية " ولا يجب في العمر الا مرة واحدة " لأنه عليه الصلاة والسلام قيل له الحج في كل عام أم مرة واحدة فقال " لا بل مرة واحدة فما زاد فهو تطوع " ولأن سببه البيت وإنه لا يتعدد فلا يتكرر الوجوب ثم هوواجب على الفور عند أبي يوسف رحمه الله وعن أبي حنيفة رحمه الله ما يدل عليه وعند محمد والشافعي رحمهما الله على التراخي لأنه وظيفة العمر فكان العمر فيه كالوقت في الصلاة وجه الأول أنه يختص بوقت خاص والموت في سنة واحدة غير نادر فيتضيق احتياطا ولهذا كان التعجيل أفضل»(1/ 132)