میں حکومت کو انکم ٹیکس ادا کرنے والا تنخواہ دار فرد ہوں، کیا شریعت کے مطابق مجھے الگ سے زکوٰۃ ادا کرنا اب بھی ضروری ہے؟
واضح ہو کہ صاحبِ نصاب (یعنی جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باؤن تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقدی ،مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہوں) ہونے کی صورت میں محض گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کرنا ادائیگی زکوٰۃ کیلئے کافی نہیں ،بلکہ صاحبِ نصاب شخص پر الگ سے زکوۃ ادا کرنا شرعاً لازم وضروری ہوتاہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر صاحبِ نصاب ہو تو گورنمنٹ کو انکم ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود اُسے اپنے مال پر قمری سال مکمل ہونے کے بعد ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ ادا کرنا شرعاً لازم وضروری ہوگا۔
کما فی الدر المختار: وماورد من ذم العشار محمول علی الأخذ ظلما إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ وماورد من ذم العشار إلخ) ثم قال: واعلم أن بعض فسقۃ التجار یظن أن مایؤخذ من المکس یحسب عنہ إذا نوی بہ الزکاۃ وھذا ضن باطل لامستند لہ فی مذھب الشافعی (إلی قولہ) ولذا قال فی البزازیۃ: إذا نوی أن یکون المکس زکوۃ فالصحیح أنہ لایقع علی الزکاۃ کذا قال الإمام السرخسی إلخ(کتاب الزکاۃ، مطلب لاتسقط الزکاۃ بالدفع إلی العاشر فی زماننا، ج: 2، ص: 310۔311، ط: سعید )۔
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتۃ: لا تجزئ أصلاً الضريبة عن الزكاة؛ لأن الزكاة عبادة مفروضة على المسلم شكراً لله تعالى وتقرباً إليه والضريبة التزام مالی محض خال عن كل معنى للعبادة والقربة ، ولذا شرطت النية فی الزكاة ولم تشرط فی الضريبة، ولأن الزكاة حق مقدر شرعاً، بخلاف الضريبة فإنھا تخضع لتقدير السلطة،ولأن الزكاة حق ثابت دائم، والضريبة مؤقتة حسب الحاجة، ولأن مصارف الزكاة هی الأصناف الثمانية:الفقراء والمساكين المسلمون إلخ، والضريبة تصرف لتغطية النفقات العامة للدولة. وللزكاة أهداف روحية وخلقية واجتماعية إنسانية،أما الضريبة فلا يقصد بھا تحقيق شيء من تلك الأهداف۔( الباب الرابع وأنواعھا،المطلب الثانی :أحکام متفرقۃ فی توزیع الزکاۃ، ج: 2، ص: 801، ط: رشیدیۃ)۔