کیا فرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمٰی بابر علی بن حضور بخش ایک پیش ِ امام کا بیٹا ہوں،میرے دو بیٹے (عبداللہ /سمیع اللہ)اور چھ بیٹیاں ہیں،میں سبزی بیچتاہوں،اس کے ساتھ ساتھ میں ایک مدرستہ البنات کا ذمہ دار بھی ہوں،اس پر مجھے کوئی پیسہ نہیں ملتا،میری چھوٹی بیٹی (مریم بی بی)شدید بیمار ہے، ڈاکٹروں کے کہنے کے مطابق ہم لوگ اسے جناح ہسپتال لے گئے،انہوں نے بتایا کہ اس کے دماغ میں ٹی بی کے جراثیم ہیں جس کی وجہ سے ٹی بی کا آپریشن کرایا گیا،اب اس کے دماغ میں (ٹی بی نیرو)مشین بھی لگوایا ہے،میرے پا س کوئی جائیداد وغیرہ نہیں ہے،میرے والد کی پانچ بیٹیاں ہیں،اور میں ان کا اکیلا بیٹاہوں،اور مجھ پر اس وقت480000کا قرضہ بھی ہے۔
دریافت طلب بات یہ ہےکہ کیا میں زکوۃ کا مستحق ہوں یانہیں،اور میں سید بھی نہیں ہوں،میرے پاس جو کچھ تھا، وہ پچھلےایک سال چار ماہ میں اپنی بیٹی کے علاج میں خرچ کر چکا ہوں۔
سائل مسمٰی بابر علی کی ملکیت میں اگرواقعۃً مذکور قرض کی ادائیگی کے بعدساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مالِ تجارت یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو(جیسا کہ سوال سے واضح ہے)تو ایسی صورت میں سائل مستحقِ زکوۃ ہوگا،لہذاسائل کے لئے زکوۃ کی رقم لینا شرعاً جائز اور درست ہے ،اور اس سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ بھی بلاشبہ ادا ہو جائے گی ۔
کما في الفتاوى الهندية:فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -(1/ 170)۔
وفی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف،ج 2، ص 339، ط: سعید)۔