زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ سے بچنے کیلئے شوہر کو آدھا سونا ہبہ کرنے سے زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
85830
| تاریخ :
2025-09-03
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ سے بچنے کیلئے شوہر کو آدھا سونا ہبہ کرنے سے زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
میری بیوی کے پاس تقریباً ۹ تولہ سونا موجود ہے۔ زکوٰۃ کے وقت میں ابھی تقریباً چھ ماہ باقی ہیں، اور میری تنخواہ میں گھریلو اخراجات بڑی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ اگر میری بیوی اپنے سونے میں سے آدھا سونا (یعنی تقریباً ۴.۵ تولہ) مجھے ہبہ (گفٹ) کر دے اور میں اس کا مالک و قابض بھی بن جاؤں، تو:
1. اس صورت میں بیوی کے پاس تقریباً ۴.۵ تولہ سونا باقی رہ جائے گا، جو نصاب سے کم ہے۔
2. میرے پاس بھی تقریباً ۴.۵ تولہ سونا ہوگا، جو نصاب سے کم ہے۔
اس حالت میں کیا ہم دونوں پر زکات فرض ہوگی یا نہیں؟
نیز اگر میری بیوی یہ سونا مجھے ہبہ کر دےاور مجھے مالک بنا دے، تو کیا وہ اسے استعمال یعنی پہن سکتی ہے؟جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی اپنا آدھا سونا اسے بطور گفٹ باقاعدہ مالک بناکر دیدے تو سائل اس قدر سونے کا مالک ہو جائے گا ،چنانچہ اس گفٹ کے بعد اگر اس سونے پر قمری سال گزرنے کے بعد میاں بیوی کے پاس فقط سارھے چار تولہ سونا ہو ،اس کے ساتھ دیگر اموال زکاة اور روز مرہ اخراجات سے زائد کیش رقم (اگرچہ معمولی مقدار میں ہی کیوں نہ ہو ) میں سے کچھ بھی موجود نہ ہو ، تو فقط اس سونے کی وجہ سے ان دونوں پر زکاة لازم نہ ہوگی ،جبکہ اس گفٹ کے بعد سائل کی اجازت سے بیوی اسے ہبہ کیے گئے زیور کو اپنے استعمال میں لاسکتی ہے،لیکن فقط زکوۃ سے بچنے کیلئے اس طرح حیلہ کرنا مناسب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: باب زكاة المال أل فيه للمعهود في حديث «هاتوا ربع عشر أموالكم» فإن المراد به غير السائمة لأن زكاتها غير مقدرة به. (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم اھ (باب زکاة المال۔ج: 2۔ص: 295 ۔ م: سعید)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):( وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة) وقالا بالأجزاء، فلو له مائة درهم وعشرة دنانير قيمتها مائة وأربعون تجب ستة عنده وخمسة عندهما۔ الخ (2باب زکاة المال،ج: ۲،ص: ۳۰۳،ط:ماجدیہ) وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه ولو كان نقصانا يسيرا يدخل بين الوزنين؛ لأنه وقع الشك في كمال النصاب فلا حكم بكماله مع الشك بحر عن البدائع. (کتاب الزکاة۔ج:2 ۔ ص:295)
وفى الدر المختار: (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه اھ (کتاب الزکاة۔ج:2،ص: 267م: سعید)
وفي الفتاوى الهندية: وللمعير أن يرجع فيها أطلق أو وقت، كذا في الوجيز للكردري. ولو استعار أرضا ليزرعها لم تؤخذ منه حتى يحصد الزرع استحسانا وقت أو لم يوقت اھ (کتاب العاریہ۔ج: 4،ص: 370،م: الماجدیہ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85830کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات