رضاکارانہ پنشن vps اسکیم کے بارے میں شرعی حکئم کیا ہے ؟ یہ حکومت پاکستان کی ایک اسکیم ہے کوئی بھی شخص اپنی رقم asset mangment compnies (amc) جیسا کہ میزان امین وغیرہ (جو کہ شریعہ کمپلائنٹ کمپنیاں ہے )میں لگا سکتا ہے ، اس اسکیم میں رقم فکس رہتی ہے ،یہاں تک کہ آپ ریٹائرڈ ہو جائیں (یعنی عمر 60 سال ہو جائے )یہ ایک قسم کا معاہدہ ہوتا ہے amc کمپنی کیساتھ کہ وہ رقم آپ کے ریٹائرڈ ہو نے تک(60سال تک) اپنے پاس رکھے گی ، اسکے بعد وہ رقم اپکو واپس کردی جائے گی بغیر کسی withholding tax یا capital gain tax کے، اگر آپ 60 سال کی عمر سے پہلے یہ رقم نکالنا چاہے تو آپ ایسا کرسکتے ہے ،لیکن اس صورت میں آپ حکومت پاکستان کی طرف سے دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس کریں گے (یعنی ٹیکس ادا کرنا ہوگا) اب سوال یہ ہے کہ چونکہ معاہدے کی مطابق میں 60 سال سے پہلے یہ رقم نہیں نکال سکتا ،تو کیا مجھے اس رقم پر ہر سال زکوۃ ادا کرنا ہوگا جب تک عمر 60 سال نہیں ہو جاتی ؟یا پھر مجھے 60 سال کی عمر ساری پچھلی زکوۃ ایک ساتھ ادا کرنا ہوگا یا پھر 60 سالوں سے پہلے کے سالوں میں زکوۃ لازم نہیں بلکہ 60 سال کے بعد جب رقم میرے قبضے میں آئے گی تب زکوۃ ادا کرنا ہوگا ؟اس بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق مذکور فنڈ میں جمع شدہ رقم اگر چہ ایک معاہدہ کے تحت مقررہ عمر کی حد تک فکس کی جاتی ہے،تاہم وہ رقم جمع کروانے والے کی ملکیت میں رہتی ہے،اور اسے اس پر مکمل مالکانہ اختیار حاصل رہتا ہے،چنانچہ اسی وجہ سے اگر وہ معاہدہ ختم کرتے ہوئے عمر کی مقررہ حد تک پہنچنے سے پہلے اس رقم کو نکلوانا چاہے تو اس کا حق رکھتا ہے ،لہذا ایسی صورت میں مذکور فنڈ میں جمع شدہ رقم پر دیگر اموال زکاۃ سے ملاکر بقدر نصاب ہوجانے کی صورت ہر سال اسکی زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔
کما فی الدر: (وَشَرْطُهُ) أَيْ شَرْطُ افْتِرَاضِ أَدَائِهَا (حَوَلَانُ الْحَوْلِ) وَهُوَ فِي مِلْكِهِ (وَثَمَنِيَّةُ الْمَالِ كَالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ) لِتَعَيُّنِهِمَا لِلتِّجَارَةِ بِأَصْلِ الْخِلْقَةِ فَتَلْزَمُ الزَّكَاةُ كَيْفَمَا أَمْسَكَهُمَا وَلَوْ لِلنَّفَقَةِ(کتاب الزکاۃ،ج:2 ،ص: 267،ط سعید)
وفی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول (الی ان قال) ولا بد من ملك مقدار النصاب لأنه صلى الله عليه وسلم قدر السبب به ولا بد من الحول لأنه لا بد من مدة يتحقق فيها النماء وقدرها الشرع بالحول لقوله صلى الله عليه وسلم " لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول(کتاب الزکاۃ،ج:1،ص:95،ط:احیاء التراث العربی)