میری اہلیہ کے پاس تقریباً دس تولہ سونا ہے، ان کی اپنی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے، ہر سال زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے انہیں اس سونے کا کچھ حصہ فروخت کرنا پڑتا ہے، وہ دراصل یہ سونا بچوں کے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہتی ہیں،کیا وہ اس سونے کو اپنی نابالغ اولاد کی ملکیت میں منتقل کر سکتی ہیں تاکہ جب تک بچے بالغ نہ ہوں، اس سونے پر زکوٰۃ واجب نہ ہو؟
وجوب زکوۃ کے بعد محض زکوٰۃ سے بچنے کے لیے اس طرح کا حیلہ اختیار کرنا بری بات اور مکروہ عمل ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر سائل کی بیوی کا ارادہ مستقبل میں بچوں کی شادی وغیرہ پر دینے کا ہو، تو ایسی صورت میں مذکور سونا ان بچوں میں باقاعدہ تقسیم کرنا اور بطور سرپرست شوہر کے قبضے میں دینا لازم ہوگا، چنانچہ اس طرح گفٹ کر دینے کے بعد سائل کی بیوی کی ملکیت سے سونا نکل جائے گا،اس صورت میں سائل کی بیوی کے لیے اس سونے کو اپنے استعمال میں لانا بھی جائز نہ ہوگا، لہٰذا اس مسئلہ کو خوب سمجھ کر اس کے مطابق عمل کیا جائے ۔
قال اللہ تعالی: وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا، (سورة النسآء-آیت6)-
و فی نصب الرایہ: قال علیہ الصلٰوۃ والسلام: رفع القلم عن ثلثۃ عن النائم حتی یستیقظ وعن الصبی حتی یحتلم وعن المجنون حتی یعقل اھ (کتاب الزکوٰۃ، ج:1، ص: 201،ط: رحمانیہ)-
وفی ’’الھدایۃ‘‘ ولیس علی الصبی والمجنون زکوٰۃ۔ (کتاب الزکاۃ، ج:1، ص:۲۰۱ ط: رحمانیہ)۔
و فی رد المحتار: وأما الحيلة لدفع ثبوتها ابتداء، فعند أبي يوسف لا تكره اھ (باب ما يبطل الشفعة، ج:6، ص:246)-