زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ ایک ساتھ اداء کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
87104
| تاریخ :
2025-10-02
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ ایک ساتھ اداء کرنے کا طریقہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب میرا نام سید صدام ہے میں نے جنوری 2021 میں شادی کی ہے میرے پاس 4 تولے سونا تھا میں نے اس سونے کا ایک سال بھی زکوٰۃ ادا نہیں کیا اب جنوری 2025 میں میں نے اس سونے کو 961000 روپے پر فروخت کیا اب میں گزشتہ چار سالوں کا زکوٰۃ دینا چاہتا ہوں لہذا آپ مہربانی فرماکر مجھے بتائیں کہ میں ٹوٹل کتنی زکوٰۃ ادا کروں مندرجہ بالا قمیت پر میں نے سونا چار سال بعد فروخت کیا آپ میرے زکوۃ کا حساب خود کریں مہربانی ہوگی جزاکم اللہ خیرا کثیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی ملکیت میں مذکور چار تولہ سونے کے ساتھ اگر تھوڑی ، بہت نقدی بھی موجود تھی (جیسا کہ عموماً ہو تا ہے ) اور مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر تھی تو ایسی صور ت میں صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے سائل پر ادائیگی زکوٰۃ لازم تھی ، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ چار تولہ سونے کو مار کیٹ ریٹ پر فروخت کرنے کے بعد اس حاصل کر دہ قیمت مبلغ 961000 روپے میں سے اس کا ڈھائی فیصد کے حساب سے پہلے سال کی زکوۃ مبلغ 24025 روپے اس کے بعد بقیہ رقم میں دوسری سال کا زکوۃ375 . 23424 روپے اور تیسری سال کا زکوۃ765. 22838 روپے اور چوتھا سال کی زکوۃ.7.796 2226 روپے بن جاتے ہیں جس کی مجموعی مقدار 92556 روپے بنتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( نصاب الذھب عشرون مثقالاً و الفضۃ مائتا درھم کل عشرۃ ) دراھم ( وزن سبعۃ مثاقیل ) الخ۔
و فی الرد: تحت: (قولہ عشرون مثقالاً) فما دون ذلک لا زکاۃ فیہ الخ ( باب زکاۃ المال، ج: 2، ص: 295، ط: سعید )۔
و فی بدائع الصنائع : فأما إذا كان له الصنفان جميعا فإن لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا (الی قولہ) وأما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنى فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولا يعتبر اختلاف الصورة(فصل مقدارالواجب فی الزکاۃ الذھب ج 2 ص19 ط:دارالکتب العلمیۃ)۔
وفیہ ایضاً: وبيان ذلك أنه إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة وكذا هذا في مال التجارة، وكذا في السوائم(کتاب الزکاۃ ج2 ص7 ط:دارالکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قائرات تبیک عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87104کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات