میرا سوال مشترکہ رقم پہ زکوۃ کا حکم اور اسکی ملکیت سے متعلق ہے، چار بھائیوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہر ماہ اپنی تنخواہوں میں سے ہزار ہزار روپے جمع کرینگے گھر کی ایمرجنسی کی صورت کے لئے یعنی ماں باپ میں سے کوئی بیمار ہو تو ان پہ خرچ کرنے کے لئے یعنی گھر کی اجتماعی ضرورت کے لئے، انفرادی طور پہ کوئی بھی بھائی اس میں سے اپنی ضرورت کے لئے کچھ رقم بھی ان پیسوں میں سے نہیں لے سکتا ، ایک مرتبہ ان پیسوں میں اگر رقم رکھ دی تو واپس نہیں لے سکتا ، سوال یہ پوچھنا تھا کہ یہ پیسے تقریبا جمع ہوتے ہوتے لاکھ سے اوپر ہوگئے ،تو سال گزرنے پہ اس کی زکوۃ کا کیا حکم ھوگا ؟اور ان میں کمی بیشی ھوتی ہے، اور زکوٰۃ کون دے گاِ؟ چاروں بھائی میں سے یا اجتماعی زکوٰۃ ادا ہوگی ؟ اگر ہوگی بھی تو کیا ترتیب ہوگی اسکی؟ یا انفرادی ہوگی زکوۃ؟ جبکہ ملکیت تو ختم ہوجاتی ہےاس میں ایک دفعہ پیسے رکھنے سے۔
دوسرا سوال :
سفری نماز کے بارے میں ہے،میرا سسرال پشاور میں ہے میرے شوہر کی جاب اسلام آباد میں ہے ،ہمارا آبائی گھر بھی وہیں پشاور میں ہے، اس میں ہمارا سب سامان رکھا ہے ،ہم وہاں چٹھیاں گزارنے جاتے ہیں کھبی پندرہ دن بیس دن، ہمارا اسلام آباد میں مستقل طور پہ رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہماری کوشش یہی ہے کہ پشاور شفٹ ہوجائے اپنے گھر، شوہر کی جاب کی نوعیت ایسی ہے کہ جگہ بدلنی پڑتی ہے، اور ہمارے ذہن میں بھی یہی ہے کہ اسلام آباد میں مستقل نہیں رہنا ،اپنے گھر واپس جانا ہے ،ہمارے سسرال والے کہتے ہیں آپ لوگ یہاں مکمل نماز پڑھیں کچھ کہتے ہیں قصر پڑھیںِ براہِ مہربانی تسلی بخش جواب ارسال فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ چاروں بھائیوں کاانتظامی طور پر گھر کی ایمرجنسی حالت یا اجتماعی ضرورت کیلئے ہر ماہ اپنی تنخواہوں میں سے ہزار ہزار روپے جمع کرنے کے بعدمحض انفراداً کسی بھائی کیلئے اس فنڈ سے اپنی ضرورت پورا کرنے کی اجازت نہ ہونے کی بناء پر اس جمع شدہ رقم میں سے ان کی ملکیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ اب بھی بدستور برقرار ہے،لہذا مذکور بھائیوں میں اگر کوئی بھائی صاحبِ نصاب(یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باؤن تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقدی اور مالِ تجارت یا ان اشیاء کا مجموعہ موجود ہو) ہو،تو ایسی صورت میں قمری سال مکمل ہونے پر اپنی جمع شدہ رقم کو اپنے دیگر مال و جائیداد کے ساتھ ملاکر کل مال کے ڈھائی فیصد کے حساب سے خود یا اپنے کسی بھائی کو وکیل بناکر زکوۃ ادا کرنا لازم و ضروری ہوگا۔
جبکہ سائلہ کا سسرال چونکہ پشاور ہی میں ہے،اور لڑکی کے نکاح اور رخصتی کے بعد والدین کے گھر کے بجائے سسرال ان کا وطنِ اصلی بن جاتا ہے،اور وطنِ اصلی میں مکمل نماز کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے،اس لئے سائلہ کا چھٹیاں گزارنے کیلئے دس پندرہ دن کیلئے اسلام آباد سے پشاور اپنے سسرال آنے کے بعد قصر کے بجائے مکمل نماز ادا کرنا لازم و ضروری ہے۔
کما فی الھدایۃ: الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ إذا ملک نصابا تاما و حال علیہ الحول إلخ( کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 200، ط: مکتبۃ رحمانیۃ )۔
وفی الھندیۃ: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة إلخ۔
وفیھا أیضاً: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية إلخ(کتاب الزکاۃ، الفصل الثالث فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض، ج: 1، ص: 178۔179، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية إلخ(کتاب الزکاۃ، الباب الأول فی تفسیر الزکاۃ، ج: 1، ص: 171، ط: ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار:(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله وبما فوقه لا بما دونه، ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته، وما صوره الزيلعي رده في البحر(والمعتبر نیۃ المتبوع)لأنہ ھو الأصل (لا التابع کامرأۃ) وفاھا مھرھا المعجل إلخ(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج: 2، ص: 131۔133، ط: سعید)۔