اسلام علیکم
بینک میں موجود رقم پر کتنی زکات بنتی ہے ہم نے بچوں کیلئے ڈالر بینک میں رکھے ہوئے ہیں۔2018 میں بیرون ملک جاب ملی ہے اور بینک اکاؤنٹ پہ زکات کا ہمیں علم نہیں تھا اب پچھلے سالوں کی زکات کس طرح سے ادا کرنی ہے؟
اور دوسرا مسئلہ ہے کہ ہمارے پاس پانچ پلاٹ ہیں ارادہ گھر بنانے کا ہے کہ ایک پہ اپنا گھر بنائے گے اور ایک پہ والدین کا لیکن یہ واضح نہیں کہ بعض دفعہ سوچتے ہیں کہ اکٹھا ایک ہی بنا لیں۔ابھی نیت واضح نہیں ہے کہ کون سا رکھنا ہے اور کون سا بیچ دیں اور ان سب پلاٹ پر کسی قسم کی کنسٹرکشن نہیں ہے ۔ایک کی اقساط جار ی ہیں باقی ہمارے نام ہو چکے ہیں۔ہم نے پہلے کسی سے پوچھا تھا انہوں نے کہا تھا پلاٹ پہ زکات اس وقت تک نہیں جب تک بیچنے یا کاروبار کا ارادہ نہ ہو۔ برائے مہربانی ان کے جوابات دیجئیے۔
صورت مسئولہ میں اگر (اگر مذکور رقم بچوں کی ملکیت نہ ہو بلکہ سائل کی ذاتی رقم ہو)تو سائل گزشتہ سالوں میں ہر سال کے اعتبار سے ادائیگی زکاة کے وقت بینک اکاونٹ میں موجود مالیت واضح طور پر معلوم ہو تو ہر سال کی مالیت میں سے اس کا ڈھائی فیصد بطور زکاة منہا کرنے کے بعد اگلے سال کی زکاة نکالتے وقت پہلے سال کی زکاة کی مقدر (ڈاھائی فیصد ) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگائے،پھر اس کے اگلے سال کا حساب کرتے ہو ئے گزشتہ سالوں کی زکاة کی مقدار منہا کرکے زکاة دیدے ۔
جبکہ سائل کے پاس موجود پلاٹ خریدتے وقت اگر تجارت کی نیت نہ ہو ،بلکہ رہائش اختیار کرنے کے لئے خریدے گئے ہوں اوراب ان میں سے کسی ایک پر مکان تعمیر کرواکر بقیہ فروخت کرنے کا ارادہ ہو تو اسی صورت میں سائل کے زمہ ان پلاٹوں کی مالیت پر زکاة کی ادائیگی لازم نہ ہوگی ۔
کما فی الشامی (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. أقول: إنه خرج باشتراط الحرية على أن المطلق ينصرف للكامل، ودخل ما ملك بسبب خبيث كمغصوب خلطه إذا كان له غيره منفصل عنه يوفي دينه (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا، ولو صداق زوجته المؤجل للفراق ونفقة لزمته بقضاء أو رضا، بخلاف دين نذر وكفارة وحج لعدم المطالب، ولا يمنع الدين وجوب عشر وخراج وكفارة (و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه نام ولو تقديرا) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه." (کتاب الزکوۃ، ج: 2،ص: 259- 263، ط:سعید)
و فی التاتارخانیة : وفی السراجیة: الزکاة فی الفلوس الرائجة کا فی الدراھم للیوم۔لا تجب مالم تکن قیمتھا مأتی درھم من الدراھم التی تغلب النفقة فیھا علی العسر او عشرین مثقالا من الذھب و لا تشترت فیھا نیة التجارة،(باب زکاة المال ،ج:۳،ص:۱۶۱ )
و فی بدائع الصنائع : فیعتبر قیمتھا یوم الاداء و الصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا۔(باب زکاة المال،ج:۲،ص:۱۱۱،ط:زکریا)
و فی تبیین الحقائق تحت قولہ (یجب فی مئتی درھم و عشرین دینارا ً)ای لا یعتبر فیھا القیمة بل الوزن کذا فی الشتح الطحاوی و فی شرح القدوری للاقطع یعتبر فیھا ان یکون قیمتھا مأتی درھم ۔ (باب زکاة المال،ج:۲،ص:۷۰،ط:دار الکتب العلمیة)
و فیہ ایضا : و ھو عروض فیشترط فیہ نیہ التجارة فصارت کالثیاب المموھة بماء الذھب ۔(باب زکاة المال،ج:۲،ص:۷۷،ط:دار الکتب العلمیة)