زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا رشتہ داروں پر خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی؟

فتوی نمبر :
87910
| تاریخ :
2025-10-16
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا رشتہ داروں پر خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی؟

السلام علیکم!
محترم !میں ایک تنخواہ دار آدمی ہوں، میری تنخواہ ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے ہے۔ میں نے اپنے معذور بھائی پر بھی رقم خرچ کی ہے اور میری چچی بھی بیوہ ہے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے پیسے رشتہ داروں پر خرچ کر دیے ہیں تو کیا اب مجھے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مالِ تجارت موجود ہو یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو تو ایسا شخص صاحبِ نصاب ہے، اور اس پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔لہٰذا اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب نہ ہو یعنی اس کی ملکیت میں صرف تنخواہ کی رقم ہو اس کے علاوہ بقیہ اموالِ زکوٰۃ (سونا، چاندی اور مالِ تجارت) میں سے کچھ بھی بقدرِ نصاب موجود نہ ہو اور وہ تنخواہ اس کی روز مرہ ضروریات پر صرف ہوجاتی ہوتو سائل پر اس تنخواہ کی وجہ سے زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔ لیکن اگر سائل کے پاس بچت کی رقم موجود ہو جس کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب بنتا ہو تو مذکور رشتہ داروں پر ماضی میں خرچ کردینے کی وجہ سے اس کے ذمہ سے زکوٰۃ ساقط نہ ہوگی، بلکہ اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی بدستور لازم رہے گی۔ اور عزیز رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی وجہ سے کئے گئے خرچ پر اجر و ثواب علیحدہ ملے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داود: عن ‌علی رضی الله عنه عن النبی صلى الله عليه و سلم ببعض أول هذا الحديث قال: (فإذا كانت لك مائتا درهم و حال عليھا الحول ففيھا خمسة دراهم، و ليس عليك شئ يعنی فی الذهب حتى تكون لك عشرون دينارا، فإذا كانت لك عشرون دينارا و حال عليھا الحول ففيھا نصف دينار، فما زاد فبحساب ذلك)۔ الحدیث۔(کتاب الزکاۃ، باب فی زکاۃ السائمۃ، ج 2، ص 10، ط: أنصاریۃ)۔
و فی تکملۃ فتح الملھم: فمن ملک النصاب من ورق المالی و مکث عندہ حولا کاملا وجبت علیہ زکاتہ باعتبار زکاۃ الفضۃ إلخ۔ (کتاب المساقاۃ و المزارعۃ، فصل فی حکم أوراق المالیۃ، ج 1، ص 517، ط: اشرفیۃ)۔
و فی الدر المختار: (و سببہ) أی افتراضھا (ملک نصاب حولیؔ) نسبۃ للحول لحولانہ علیہ (تام) (إلی قولہ) (و) فارغ (عن حاجۃ الأصلیۃ) لأن المشغول بھا کالمعدوم (إلی قولہ) (نصاب الذھب عشرون مثقالا و الفضۃ مائتا درھم) (إلی قولہ) (و قیمۃ العرض) للتجارۃ (تضم إلی الثمنین) لأن الکل للتجارۃ وضعا و جعلا (و) یضم (الذھب إلی الفضۃ) و عکسہ بجامع الثمنیۃ (قیمۃ) إلخ۔ (کتاب الزکاۃ، ج 2، ص 259، ط: سعید)۔
و فی بدائع الصنائع:فأما ‌إذا ‌كان ‌له ‌الصنفان ‌جميعا فإن لم يكن كل واحد منھما نصابا بأن كان له عشرة مثاقيل و مائة درهم فإنه يضم أحدهما إلى الآخر فی حق تكميل النصاب عندنا۔ و عند الشافعی لا يضم أحدهما إلى الآخر بل يعتبر كمال النصاب من كل واحد منھما على حدة إلخ۔ (کتاب الزکاۃ، فصل مقدار الواجب فی زکاۃ الذھب، ج 2، ص 344، ط: التوفیقیۃ،مصر)۔
و فیہ أیضاً:أما الأثمان المطلقة و هی الذهب و الفضة أما قدر النصاب فيھما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيھا حتى تبلغ مائتی درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيھا خمسة دراهم(إلی قولہ) و أما صفة هذا النصاب فنقول: لا يعتبر فی هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيھا سواء كانت دراهم مضروبة، أو نقرة، أو تبرا، أو حليا مصوغا، أو حلية سيف، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب فی المصاحف و الأوانی، و غيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتی درهم، و سواء كان يمسكھا للتجارة، أو للنفقة، أو للتجمل، أو لم ينو شيئًا إلخ۔ (کتاب الزکوۃ، فصل الأثمان المطلقۃ و ھی الذھب و الفضۃ، ج 2، ص 17، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87910کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات