زکوۃ و نصاب زکوۃ

نصاب سے زیادہ زکوۃ لینے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
88034
| تاریخ :
2025-10-19
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نصاب سے زیادہ زکوۃ لینے کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے اوپر قرضہ تقریبا چھ لاکھ ہے اور صرف ایک لاکھ روپے جمع کیا ہے اس حساب سے مفتی صاحب سے میں نے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ تم زکوۃ لے سکتے ہو اور اس سلسلے میں میرے بیٹے کی اپریشن بیچ میں اگئی میرا بیٹا سماعت سے معذور ہے تو اس کی اپریشن 30 لاکھ کا بتایا تھا اس سلسلے میں میں نے اپنے دوستوں سے اور رشتہ داروں سے زکوۃ طلب کی تھی اور اللہ کا کرم یہ ہوا کہ 30 لاکھ سے زائد اماؤنٹ میرے پاس جمع ہو گئی،تقریبا 33 لاکھ ہاسپٹل میں جمع کروا دی اور اس کے علاوہ کچھ بیٹے کے سپیچ تھراپی کے لیے رکھ لیا اور دل میں خیال ایا کہ کچھ اماؤنٹ اپنے پاس رکھ لوں تو تقریبا ساڑھے چھ لاکھ اپنے پاس رکھ لیے تاکہ اس میں سے انویسٹمنٹ کر کے ہر مہینے کچھ منافع ملے گا تو اس میں سے میں اپنا قرضہ اتاروں گا اور گھر کے کچھ اخراجات وہ ضروری وہ اس میں سے کر لوں گا،زکوۃ لینے کی صورت مفتی صاحب نے یہ بتائی تھی کہ چونکہ تمہارے اوپر چھ لاکھ کا قرضہ ہے اور ایک لاکھ جب اپ پنجی ہے تو تم پانچ لاکھ تک قرضہ لے سکتے ہو اور اس کے اوپر ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو قیمت ہے وہ بھی اس تک بھی زکوۃ لے سکتے ہو یعنی ٹوٹل سات یا اٹھ لاکھ تک ایک ساتھ اماؤنٹ لے سکتے ہو اور پھر جب اماؤنٹ سات لاکھ تک پہنچ جائے تو تم اپنے بچے کو اس کا مالک بنا دو ایسے کرتے کرتے ساتھ ساتھ لاکھ جمع کرتے کرتے اماؤنٹ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی اور میں نے اتنی اماؤنٹ کا اپنے بیٹے کو مالک بنا دیا اور اس کے بعد جو اماؤنٹ اتی رہی اس میں سے کچھ میں نے اپنے اکاؤنٹ میں رکھی تقریبا ڈھائی لاکھ ۔۔ جب انہوں نے زکوۃ کی اماؤنٹ مجھے دی تو میں ان کا اس کا مالک بن گیا اور میں نے پھر اس میں سے ساڑھے چار لاکھ اپنی اہلیہ کو ہدیہ کر دیا ہے تو ایسے تقریبا چھ یا سات لاکھ میرے پاس جمع ہو گئے جس میں سے ساڑھے چار لاکھ اہلیہ کو ہدیہ کر دیا اہلیہ کے پاس جمع ہو گئے اور ڈھائی لاکھ میرے بینک اکاؤنٹ میں تھے اب میرے دل میں کھٹک ہو رہی ہے کہ اس طرح کرنا صحیح ہے یا نہیں اس میں شرعی اخلاقی کیا بات ہے اور اگر میں اپنے شیخ کو بتاتا ہوں تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے تو میں اپنے شیخ کو بتاؤں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل نے اگر بچے کے علاج کی غرض سےرقم جمع کر تے وقت صاحب نصا ب نہ تھے ،بلکہ رقم جمع کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اس بچے کو یہ رقم بطور ہدیہ دیتے رہے،جس کی وجہ سےاس کی ملکیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدرنقدی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ تھا اور وہ سید بھی نہ ہو،تو ایسی صورت میں اس کا زکوۃ کی رقم لینا شرعا درست تھا اورزکوۃ دینے والوں کی زکوۃ بھی ادا ہو چکی ہے،لیکن اب اگر سائل کے پاس اس قدر مال جمع ہوچکا ہو جو نصاب کو پہنچ جاتا ہو،تو اب اس کا لوگوں سے زکوۃ کی رقم لینا درست نہ ہو گا،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ابی داؤد: حدثنا محمد بن عوف الطائي، حدثنا الفريابي، حدثنا سفيان، عن عمران البارقي، عن عطيه عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تحل الصدقة لغني، إلا في سبيل الله، أو ابن السبيل، أو جار فقير يتصدق عليه، فيهدي لك أو يدعوك(باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ و ھو غنی،ج:1،ص:723،ط:بشری)
وفي الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ( باب المصرف،ج2،ص339،ط:سعيد)
وفی البحر الرائق:و أما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام: " لاتحل صدقة لغني"خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة، كذا في البدائع(کتاب الزکاۃ،ج:2،ص263،ط:دارالکتاب الاسلامی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88034کی تصدیق کریں
0     257
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات