میں بچت کے مقاصد کے لیے بینک استعمال نہیں کرتا، حتیٰ کہ میزان جیسے اسلامی بینک بھی نہیں، حالانکہ میرا وہاں اکاؤنٹ موجود ہے، لیکن وہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ ہے،تاہم، پاکستانی روپے کی مسلسل قدر میں کمی کی وجہ سے، کرنٹ اکاؤنٹ میں نقد رقم رکھنا، وقت کے ساتھ ساتھ بچت میں نمایاں نقصان کا باعث بنتا ہے۔اسی لیے، میں جب بھی بچت کرنا چاہتا ہوں تو معمولی مقدار میں سونا خرید لیتا ہوں تاکہ روپے کی قدر میں کمی اور اسلامی بینکنگ کے سرمایہ کاری منصوبوں (جیسے میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹس) میں سرمایہ کاری نہ کرنے کی وجہ سے ممکنہ نقصان سے بچ سکوں،میرا ارادہ ہے کہ ضرورت کے وقت، جیسے گھر، گاڑی خریدنے یا کسی طبی ہنگامی صورتحال میں، یہی سونا فروخت کر کے استعمال کروں،کیا اس سونے پر زکوٰۃ واجب ہے؟ میں کئی سالوں سے اس پر زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں، لیکن جب میری ملازمت ایک سال سے زیادہ کے لیے ختم ہوگئی تو میں اس بچت والے سونے پر زکوٰۃ ادا کرنے سے قاصر رہا۔اب مجھے دوبارہ نوکری مل گئی ہے، مگر میری تنخواہ اتنی نہیں کہ میں اس سرمایہ کاری والے سونے کی مکمل زکوٰۃ ادا کر سکوں۔
میرے چند سوالات ہیں:
1. کیا سرمایہ کاری کے لیے رکھا گیا سونا زکوٰۃ کے قابل ہے (اگرچہ میں احتیاطاً برسوں سے اس پر زکوٰۃ دیتا رہا ہوں)؟
2. اگر ہاں، تو کیا اب زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے سونا فروخت کرنا ضروری ہے؟
3. اگر نہیں، تو کیا زکوٰۃ اس وقت واجب ہوگی جب میں سونا فروخت کروں، یعنی خرید و فروخت کی قیمت کے فرق (اگرچہ یہ محض مہنگائی کے اثرات ہوں) پر؟
4. کیا میرے لیے بہتر یہ ہے کہ میں یہ سارا سونا فروخت کر کے اس کی رقم میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں لگادوں؟
واضح ہو کہ سونا جس شکل میں اور جس مقصد کیلئے خرید کر رکھا جائے،جب وہ خود بقدرِنصاب (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا) ہو یا سونے کے علاوہ دیگر اموالِ زکوۃ جیسےچاندی،نقدی اور مالِ تجارت وغیرہ میں سے کسی چیز کے موجود ہونے کی صورت میں اس کو ساتھ ملاکر اس کی مجموعی مالیت ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے،اور اس پر قمری سال بھی گزر جائے،تو سالانہ ڈھائی فیصد کے حساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے گھریلو ضروریات کو پورا کرنے ،سرمایہ کو محفوظ کرنے یا سرمایہ کاری وغیرہ کی غرض سے جو سونا خرید کر اپنے پاس رکھا ہوا ہے،اگر وہ سونا بذات خود ساڑھے سات تولہ ہو ،یا چاندی،نقدی اور مالِ تجارت میں سے کسی کو اس کے ساتھ ملاکر ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچ جاتا ہو تو ایسی صورت میں سال گزرنے پر سائل کے ذمہ ڈھائی فیصد کےحساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی،اور اگر اس سونے کی ادائیگی زکوۃ کیلئے سائل کے پاس کیش رقم موجود نہ ہو تو مذکور سونا میں سے کچھ بیچ کر ادائیگی زکوۃ لازم و ضروری ہے۔
جبکہ میزان بینک اگر مستند مفتیانِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیرِ نگرانی میں اپنے تمام مالی معاملات سر انجام دے رہی ہوں،اور ان کے معاملات عملاً بھی شرعی ضابطوں کے مطابق ہوں،توسائل کیلئے اپنے پاس موجود سونے کو فروخت کرکے اس کی رقم میزان بینک کے saving account میں رکھنے اور اس پر ماہانہ یا سالانہ منافع حاصل کرنے کی اگرچہ گنجائش ہے،تاہم کسی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ یا گھر وغیرہ میں موجود رقم پر سال گزرنے کے بعد اگر وہ رقم بقدرِ نصاب ہو یا دیگر نقدی اور مالِ تجارت کے ساتھ ملانے کے بعد نصاب یعنی ساڑھے باؤن تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچ جائے تب بھی اس کی مجموعی مالیت پر سائل کے ذمہ ڈھائی فیصد کےحساب سے ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی،البتہ اگر سائل فی الوقت زکوۃ کی مد میں لازم ہونے والی رقم کو یکمشت ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، تو زکوۃ کا حساب کرکے اسے ایک جگہ محفوظ کرلے، اور پھر اس حساب سے تھوڑا تھوڑا کرکے رقم ادا کرتا رہے، جو رقم ادا کردے،اسے حساب سے منہا کردے، ا سطرح جب وہ رقم مکمل ادا کردے گا،تو اس کا فریضہ زکوۃ بھی ادا ہوجائے گا۔
کما فی الدر المختار: (فی مضروب کل) منھما (ومعمولہ ولو تبرا أو حلیا مطلقا) مباح الاستعمال أولا ولو للتجمل والنفقة لأنھما خلقا أثمانا فیزکیھما کیف کانا إلخ۔
وفی الرد تحت:(قولہ ومعمولہ) أی مایعمل من نحو حلیۃ سیف أو منطقۃ أو لجام أو سرج أو الکواکب فی المصاحف والأوانی وغیرھا إلخ(کتاب الزکاۃ، باب زکوۃ المال، ج: 2، ص: 298، ط: سعید)۔
وفی الھدایۃ: الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ إذا ملک نصابا تاما و حال علیہ الحول إلخ( کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 200، ط: مکتبۃ رحمانیۃ )۔
وفی الدرالمختار: (وافتراضھا عمری) أی علی التراخی، وصححہ الباقانی وغیرہ (وقیل فوری) أی واجب علی الفور (وعلیہ الفتوی) کما فی شرح الوھبانیۃ) إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ وافتراضھا عمری) قال في البدائع: وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديًا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب إلخ(کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 271، ط: ماجدیۃ)۔