ایک شخص جو ماہانہ ایک لاکھ روپے کماتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی جمع پونجی (سیونگز) نہیں ہے، کیا وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے؟اس کی صرف اتنی رقم جمع ہوتی ہے جو کمپنی اس کی تنخواہ سے پروویڈنٹ فنڈ (PF) کے طور پر کاٹتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کے پاس اگر سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت، اور ضروریاتِ اصلیہ سے زائد سامان،یا ان پانچوں کا مجموعہ بقدر نصاب(ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) موجود نہ ہو،اور وہ سید بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگر چہ پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کمپنی کے پاس جمع ہو لیکن جب تک وہ رقم وصول نہ ہو ،تو وہ شرعاً زکوٰۃ کا مستحق ہے اور اس کے لئے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔اور اگر ان پانچ چیزوں کی مجموعی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو تو اس کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
کما فی الفتاوى الهندية:«لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي.»(1/ 189)