میری بیٹی کے پاس 30 تولہ سونا ہے، وہ ایک گھریلو عورت ہے اور کوئی اس کا ذریعہ آمدن نہیں ہے، وہ زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کا شوہر ادا کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ یہ سونا تمہارا ہے تم چاہیے اس کو فروخت کرو یا زکوٰۃ دو۔ جب وہ اس کو فروخت کرنا چاہتی ہے، تو اس کی ساس منع کرتی ہے، اور کہتی ہے کہ یہ مستقبل میں اس کی بیٹی کے کام آئے گا، اس کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟
واضح ہوکہ سائل کی بہن جب سے صاحب نصاب بنی ہے، اس کے بعد سال گزرنے سے اس پر اپنے زیورات اور دیگر اموال زکوٰۃ کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی شرعاً لازم ہے، اب اگر اس زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے اس کے پاس نقدی نہ ہو، تو وہ ان زیورات میں سے کچھ بیچ کر یا شوہر والد ، بھائی وغیرہ سے نقد رقم لیکر زکوٰۃ کی ادائیگی کرناچاہیے، تو بلاشبہ کرسکتی ہے، اور اسے ایسا کرنا چاہیے۔
کما فی التنویر الابصار: وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد (و) فارغ (عن حاجته الأصلية نام ولو تقديرا الخ (2/259)۔