ایک خاتون کے پاس سن 2008 میں 3.75 تولہ سونا موجود تھا، جو تقریباً سات سال تک ان کی ملکیت میں رہا۔ بعد ازاں انہوں نے وہ سونا بیچ کر ایک مکان خرید لیا۔ اب وہ یہ کہتی ہیں کہ ان سات سالوں کی زکوٰۃ انہوں نے اس وقت ادا نہیں کی تھی، اور اب اپنی اس کوتاہی پر نادم ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہیں۔
ابھی مالی حالت ٹھیک نہی ہے زکوٰۃ ادا کرنے کی گنجائش بھی نہی ہے جتنا گنجائش کے ساتھ ہوسکے نکال کے بتا دیں تاکہ جلد سے جلد اس کی ادائیگی کرکے بری الذمہ ہوسکیں جزاک اللہ خیرا ؟
صورتِ مسئولہ میں 3.75 تولہ سونا اگر مذکور خاتون کی ذاتی ملکیت ہو اور اس کے ساتھ اس سونے کے علاوہ چاندی مال تجارت یا روز مرہ اخراجات سے زائد رقم (خواہ معمولی مقدار میں کیوں نہ ہو) موجود ہو، تو صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے اس کے ذمہ ادائیگی زکوۃ لازم تھی، اب انہوں نے جتنے سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی، تو اس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ: اس سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کے مجموعی رقم میں سے ڈھائی فیصد کے بقدر پہلے سال کی زکوۃ منہا کرے، اس کے بعد بقیہ رقم سے ڈھائی فیصد کے بقدر دوسرے سال کی زکوۃ ادا کرے، پھر اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دو سالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کر کے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرے ۔
کمافی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {وآتوا الزكاة} [البقرة: ٤٣] ولقوله صلى الله عليه وسلم " أدوا زكاة أموالكم " وعليه إجماع الأمة الخ۔ (1/95)
و فی بدائع الصنائع: لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابناالخ۔ (2/22)