السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نے قرضہ دیا اپنے کام کرنے والوں کو مگر وہ کام چھوڑ کر چلے گئے قرضہ واپس کیے بغیر میرے پاس کوئی موقع نہیں کہ میں اپنا قرض وصول کروں، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے ان پیسوں پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، جو مجھے نہیں ملے ؟
جبکہ ان کا م کرنے والوں کو ایک سال کاوقت بھی دیا گیا تھا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے کسٹمر جن کو میں اپنی چیزیں فروخت کرتا ہوں، وہ مجھے پورے پیسے نہیں دے رہے ہیں، بلکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بعد میں دیں گے کیا مجھے ان پیسوں پر بھی زکوٰۃ دینی ہوگی، جبکہ مجھے پتہ نہیں کہ وہ کب دیں گے؟
مذکور دونوں صورتوں میں قرض دار اگر منکر نہ ہو تو ان رقوم پر زکوٰۃ لازم ہے، مگر فی الفور نہیں، بلکہ جب بھی سائل کو یہ رقوم حاصل ہوجائیں تو اس وقت گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔
کمافی بدائع الصنائع: أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، الخ (2/10)۔