السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته!ایک عورت ہے جس کے پانچ بچے ہیں،شوہر کا انتقال ہو چکا ہے،کرایہ کے مکان میں رہتی ہیں،ایک بیٹا پرائیویٹ جاب کرتا ہے، مگر اس کی آمدنی کتنی ؟ معلوم نہیں،وہ بیٹا اپنی بائیک پر جاتا ہے (اپنا خرچ خود اٹھاتا ہے) بچوں میں سے ایک بیٹی کی شادی ہو رہی ہے، باقی دو بیٹیاں ابھی غیر شادی شدہ ہیں،کیا ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون اگر مستحق زکوٰۃ ہو، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کے بقدر مال تجارت ، نقدی اور گھریلو ضرورت سے زائد سامان وغیرہ نہ ہو اور وہ سیدہ بھی نہ ہو تو اُسے زکوٰۃ دینا شرعا جائز ہے، ورنہ نہیں ۔
کما فی الدر: (مصرف الزكاة والعشر) (الی قوله) (هو فقیر وهو من له أدنی شیٔ) ای دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة (إلی قوله) (وفی سبیل الله وهو منقطع الغزاة) وقیل الحاج وقیل طلبة العلم. اهـ (ج2، ص339 – 343)-
و في الفتاوى الهندية: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى، (ج:1، ص:170)-