السلام علیکم!
میں پاکستان میں ایک یونیورسٹی کا طالب علم ہوں اور مجھےپاکستانی روپیوں میں مہانہ وظیفہ ملتا ہے۔ اس میں سے کچھ میں شئیرز کی صورت میں جمع کر رہا ہوں جن کی مالیت امریکی ڈالر میں ہے۔ جب مجھ پر زکات فرض ہوگی تو کیا
نصاب کا حساب روپیوں میں کرنا ہو گا یا پھر ڈالر میں؟ یعنی ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت امریکی بازار کے حساب سے دیکھیں یا پاکستانی بازار کے حساب سے؟
واضح ہوکہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں اصول یہ ہےکہ قابلِ زکاۃ مال جہاں موجود ہو، اسی جگہ کی مالیت کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ لہذاصورت مسئولہ میں سائل کے پاس جوبھی قابلِ زکاۃ مال (جیسے سونا، چاندی، نقدی یا امریکی ڈالر میں قیمت رکھنے والی شیئرزوغیرہ) موجود ہے،اس میں زکوٰۃ کا نصاب پاکستانی روپے کے حساب سے مقررہوگا ۔لہٰذا سائل کے مجموعی قابلِ زکاۃ اموال کی مالیت جب پاکستانی مارکیٹ کے مطابق ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچ جائے اوراس پر سال بھی گزر جائے تو سائل صاحبِ نصاب شمار ہو گا اوراس پر زکاۃ فرض ہوگی۔
وفی مجمع الانھر:(و) كره (نقلها) أي الزكاة بعد تمام الحول من بلد (إلى بلد آخر) غير البلد الذي فيه المال وإن كان المزكي في بلد، والملك في بلد آخر فالمعتبر مكان الملك لا المالك بخلاف صدقة الفطر حيث يعتبر عنه محمد مكان المؤدي وهو الأصح."(كتاب الزكاة، باب في بيان أحكام المصرف، ج:1، ص:225، ط:دارالطباعة العامرة)۔
وفی الموسوعۃ الفقھيۃ: صرح الحنفية أن عروض التجارة يقومها المالك على أساس سعر البلد الذي فيه المال وليس الذي فيه المالك، أو غيره ممن له بالمال علاقةالخ (زكاة السعر الذي تقوم به السلع ج: 23، ص:275، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت)۔
وفی الھندیة: ومنھا کون المال نصابًا فلا تجب فی اقل منه ھکذا فی العینی شرح الکنز.الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 172، ط: ماجدیہ)۔