زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ اور میراث کا حکم

فتوی نمبر :
89371
| تاریخ :
2025-11-30
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ اور میراث کا حکم

ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں،دو عدد مکان ہے ،120 گز کا دونوں کا رقبہ ہے، ایک مکان کے تین فلور ہیں ،جس میں ہم تین بھائی الگ الگ فلور پر رہتے ہیں ،والدہ کی حیات میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ہم تینوں بھائی ایک ایک فلور لے لیں،ایک بھائی جو الگ رہتے ہیں ، وہ دوسرےمکان میں رہتے ہیں،جو والد کی وراثت میں ہے،اس کا فیصلہ یہ ہوا تھا کہ اس میں 60 گز کا حصہ ایک بھائی کو دے دیا جائے ،اور دوسرا حصہ60 گز بہن کو دے دیا جائے،شریعت کے اعتبار سے یہ فیصلہ درست ہے ؟ یا شریعت کی رو سے یہ تقسیم کس طرح ہونی چاہیے ۔

دوسری بات یہ معلوم کرنی تھی کہ ہماری والدہ محترمہ کا انتقال اسی سال ربیع الاول میں ہوا،اور والد کا انتقال سن 2017 میں ہوا،مسئلہ یہ ہے کہ والد کے پاس جو رقم اور سونا تھا،تو مجھے یہ لگتا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد والدہ نے صحیح طرح زکوۃ ادا نہیں کی کہ جس طرح کرنی چاہیے تھی،تو یہ بات ہم بہن بھائیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مال کی تقسیم سے پہلے2017 سے 2025 کی زکوۃ ادا کردیں،پھر جو مال بچے وہ آپس میں تقسیم کرلیا جائے ،تو یہ طریقہ درست ہے ؟یا کچھ مال صدقہ کردیا جائے،اور باقی تقسیم کردیا جائے،ہم چاروں بہن بھائی اس پر راضی ہیں کہ پہلے مال کی زکوۃ ادا کردی جائے ۔ رہنمائی فرمائیں!

نوٹ: والد مرحوم کی جائیداد میں دو مکانات تھے ،جو والدِ مرحوم کی ملکیت تھے،البتہ انتقال کے بعد باہمی رضامندی سے والدہ کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا کہ تین بھائی ایک ایک فلور لے لیں، جبکہ ایک بھائی اور ایک بہن دوسرے مکان میں ساٹھ ساٹھ گز میں رہائش پذیر ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ آیا تقسیم شرعی اعتبار سے درست ہے ،یا از سر نو تمام ترکہ تقسیم ہوگا ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ والدہ مرحومہ کی ملکیت میں ان کا ذاتی سونا موجود تھا ،جس کی انہوں نے 2017 سے لیکر 2025 تک زکوٰۃ ادا نہیں کی، ہم سب بہن بھائی باہمی رضامندی سے والدہ کی طرف سے زکواۃ ادا کرنا چاہتے ہیں ، زکوۃ کی ادائیگی کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟ جبکہ سونا تقریباً ساڑھے اکیس تولہ ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ورثاء کا آپس کی باہمی رضامندی اور موافقت کے ساتھ ترکہ کی تقسیم کرنا شرعاًجائز اور نافذ العمل ہے، بشرطیکہ تمام ورثاء عاقل وبالغ ہوں،اور تقسیم پر رضامند ہوں۔
لہذا سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو ،اس طور پر کہ تمام ورثاء نے باہمی رضا مندی ، خوش دلی اور مکمل اتفاق رائے کے ساتھ والدِ مرحوم کا ترکہ والدہ مرحومہ کی موجودگی میں آپس میں باہمی مصالحت و سمجھوتے کے ذریعے تقسیم کیا ہو،اور ہر وارث نے اپنے ملنے والے حصے پر حقیقی اور مکمل قبضہ بھی کر لیا ہو،اور کسی حصہ دار کو اس کے حصہ سے محروم بھی نہ کیا ہو، اور نہ ہی کسی نے مجبوری یا دباؤ میں آ کر کوئی حصہ چھوڑا ہوتو ایسی صورت میں یہ تقسیم شرعاً معتبر اور درست ہے۔
جبکہ سائل کی والدہ مرحومہ نے گزشتہ جتنے سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے ، اس کے ذمہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی شرعاً لازم اور ضروری ہے،اور مرحومہ کی طرف سے زکوۃ ادا کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنے مال سے زکوۃ کی ادائیگی کی وصیت کی ہوتو ترکہ سے قرضوں کی ادائیگی کے بعد باقی ماندہ مال کے ایک تہائی مال سے زکوۃ ادا کی جائے گی، اور اگر ورثاء بالغ ہوں تو اس سے زیادہ بھی اپنی مرضی سے بطورِ تبرع دے سکتے ہیں، تاہم اگر مرحومہ نے زکوۃ کی ادائیگی کی وصیت ہی نہ کی ہو تو ورثاء کے ذمہ اس کی زکوۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔
تاہم اس کے باوجود اگر سائل کی بہن اور دیگر تمام بھائی دلی رضامندی کے ساتھ والدہ مرحومہ کے ذمہ لازم زکوٰۃ کی ادائیگی کرنا چاہتےہوں،تو اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے سال کی زکوٰۃ میں ٹوٹل اکیس تولہ سونے کا ڈھائی فیصد کا حساب کیا جائے. پھر حساب سے اسے منہا کرنے کے بعدجو سوناباقی بچے،تو دوسرے سال کی زکوۃ میں باقی ماندہ سونے کا ڈھائی فیصد حصہ الگ کیا جائے،پھر باقی ماندہ سونے کا ڈھائی فیصد سونا تیسرے سال کی زکوۃ میں منہاکیا جائے،اسی طرح تمام سالوں کی زکوۃ بالترتیب ادا کی جائے،اگر زکوٰۃ میں بعینہ سونا دینے کے بجائےاس کی قیمت دینا چاہیں،تو آج کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے مذکوربالاطریقہ کار اختیارکیا جائے،جب تمام سالوں کی زکوۃ نکال لی جائے،اس کے بعد باقی ماندہ سونا وغیرہ کے نو (9) برابر حصے کرکے بہن کو ایک حصہ ،جبکہ ہر بھائی کو دو حصے دیے جائیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {و آتوا الزكاة} [البقرة: ٤٣] و لقوله صلى الله عليه و سلم " أدوا زكاة أموالكم"وعليه إجماع الأمةاھ(95/1)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق : أنه لو مات من عليه الزكاة لاتؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها،وهو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات. (227/2)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما الذي يرجع إلى المقسوم له فأنواع: (منها) أن لا يلحقه ضرر في أحد نوعي القسمة دون النوع الآخر، وبيان ذلك أن القسمة نوعان: قسمة جبر: وهي التي يتولاها القاضي، وقسمة رضا: وهي التي يفعلها الشركاء بالتراضي، وكل واحد منهما على نوعين: قسمة تفريق، وقسمة جمع.
أما) قسمة التفريق فنقول - وبالله تعالى التوفيق: إن الذي تصادفه القسمة لا يخلو من أحد وجهين: (إما) أن يكون مما لا ضرر في تبعيضه بالشريكين أصلا بل لهما فيه منفعة.
(وإما) أن يكون مما في تبعيضه مضرة، فإن كان مما لا مضرة في تبعيضه أصلا بل فيه منفعة للشريكين، كالمكيل والموزون والعددي المتقارب، فتجوز قسمة التفريق فيها قسمة جبر، كما تجوز فيها قسمة الرضا؛ لتحقق ما شرع له القسمة، وهو تكميل منافع الملك.وإن كان مما في تبعيضه ضرر فلا يخلو من أحد وجهين: (إما) أن يكون فيه ضرر بكل واحد منهما.
(وإما) أن يكون فيه ضرر بأحدهما نفع في حق الآخر، فإن كان في تبعيضه ضرر بكل واحد منهما فلا تجوز قسمة الجبر فيه، وذلك نحو اللؤلؤة الواحدة والياقوتة والزمردة والثوب الواحد والسرج والقوس والمصحف الكريم، والقباء والجبة والخيمة والحائط والحمام والبيت الصغير والحانوت الصغير والرحى والفرس والجمل والبقرة والشاة؛ لأن القسمة في هذه الأشياء قسمة إضرار بالشريكين جميعا، والقاضي لا يملك الجبر على الإضرار، وكذلك النهر والقناة والعين والبئر؛ لما قلنا فإن كان مع ذلك أرض؛ قسمت الأرض وتركت البئر والقناة على الشركة. اھ(19/7)۔
و فی رد المحتار:في الجوهرة:إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث. (2/ 359)۔
و فی بدائع الصنائع: لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين و إنما له و لاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء و الصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنااھ(22/2)۔
و فی الدرالمختار:(نصاب الذهب عشرون مثقالا و الفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) و الدينار عشرون قيراطا و الدرهم أربعة عشر قيراطا و القيراط خمس شعيرات فيكون الدرهم الشرعي سبعين شعيرة و المثقال مائة شعيرة فهو درهم و ثلاث أسباع درهم اھ(295/2)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89371کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات