زکوۃ و نصاب زکوۃ

جس مصرف کیلئے نذر مانی ہو اس کے ختم ہونے سے نذر کا حکم

فتوی نمبر :
89510
| تاریخ :
2025-12-03
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

جس مصرف کیلئے نذر مانی ہو اس کے ختم ہونے سے نذر کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب،
میرا نام محمد سفیان ہے میرا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے۔
کچھ سال پہلے ہمارے گاؤں میں ایک مدرسہ جس کا نام غالباََ مدرسہ جامعہ زکریا رح تھا کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس وقت دل میں ایک خواہش یا منت مانی تھی کہ جب اللہ تعالٰی سرکاری نوکری دیں گے تو پہلی تنخواہ اس مدرسہ میں دوں گا۔
کچھ وجوہات کی بِنا پر وہ مدرسہ بند ہو گیا۔ تو گاؤں کی جامعہ مسجد میں مدرسہ شروع کر دیا گیا بعد میں بنات کا مدرسہ بنا تو دونوں کا نام جامعہ حفصہ البنین و البنات رکھا گیا۔
اب جامعہ زکریا رح کی نامکمل عمارت تو موجود ہے لیکن وہاں طلباء نہیں ہے۔
اور موجودہ مدرسہ جامعہ حفصہ کے مہتمین الگ ہیں۔

اب میرے اپنے محلے میں میرے گھر کے نزدیک مسجد میں کام ہو رہا ہے۔ مَیں اب وہ پہلی تنخواہ کے پیسے اپنے محلے کی مسجد میں دینا چاہتا ہوں۔
کیا میں یہ پیسے اپنے مسجد میں دے سکتا ہوں؟
میں نے جس مدرسہ کےلیے منت مانی تھی اب اس مدرسہ کام بھی نہیں ہو رہا ہے اور مدرسہ بھی بند ہو چکا ہے۔
جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل نے اگر متعین مدرسہ میں مذکور رقم دینے کی باقاعدہ نذر مانی ہو،فقط دل سے نیت نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں یہ نذر منعقد ہو چکی ہے، جسے پورا کرنا سائل پر لازم ہوگا ،لہذ ا مذکور مدرسہ اگر اب موجود نہ ہوتو کسی اور مدرسہ میں اس قدر رقم کو ديدینے سے سائل کی نذر پوری ہوجائےگی،البتہ اس رقم کو سائل کے لئےمسجد کی تعمیر میں لگانا درست نہیں، جس سے احتراز چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی ردالختار: لو نذر التصدق على فلان ‌له ‌أن ‌يتصدق ‌على ‌غيره،أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به(كتاب الزكاة، ج:2،ص:269، ط:سعيد)
وفیہ ایضا:(أي مصرف الزكاة والعشر ) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة(کتاب الزکوۃ،باب المصرف، ج:3،ص:339، ط:سعيد)
وفیہ ایضا:وفی البدائع : ومن شروطه أن يكون قربة مقصودة فلايصح النذر بعيادة المريض، وتشييع الجنازة، والوضوء، والاغتسال، ودخول المسجد، ومس المصحف، والأذان، وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك، وإن كانت قربا إلا أنها غير مقصودة اهـ فهذا صريح في أن الشرط كون المنذور نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه، ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهو بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته(کتاب الایمان،ج:3،ص:735،ط:سعید)
وفی الفقہ الاسلامی وادلۃ: ورکنہ عند الحنفیۃ: ھو الصیغۃ الدالۃ علیہ مثل قول الشخص:(للہ علی کذا) أو (ھذا ھدی) أو (صدقۃ) أو (مالی صدقۃ) أو (ما املک صدقۃ) ونحوھا(الفصل الثانی النذور،ج:4،ص:2552،ط:رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89510کی تصدیق کریں
0     278
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات