زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ دینے کا طریقہ

فتوی نمبر :
89648
| تاریخ :
2025-12-06
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ دینے کا طریقہ

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں نے آج تک زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ ابتدا میں میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ نصاب کے برابر ہو، لیکن بعد میں میرے پاس کچھ رقم جمع ہوتی رہی۔ 1. میرا ایک پراویڈنٹ فنڈ ہے جس میں کمپنی ہر ماہ میری تنخواہ سے کچھ رقم کاٹتی ہے اور اتنی ہی رقم اپنی طرف سے بھی شامل کرتی ہے۔ یہ رقم وقت کے ساتھ جمع ہوتی رہی، لیکن میرے اختیار میں نہیں ہوتی۔ 2. میں نے کچھ سرمایہ کاری (Investment) کرپٹو کرنسی میں، اسٹاک مارکیٹ میں، اور کچھ میوچول فنڈز میں بھی کی ہوئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں کہ میں کس تاریخ یا کس سال نصاب کا مالک بنا تھا، یعنی میں کب زکوٰۃ کے لائق ہوا تھا۔ لہٰذا گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں: 1. پہلے جو سال گزر چکے اور میں نے زکوٰۃ نہیں دی، ان کی زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟ 2. کیا زکوٰۃ اُس وقت کی مالیت کے حساب سے دینی ہوگی جب وہ سرمایہ کاری کی گئی تھی، یا اب موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق حساب کیا جائے؟ 3. پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کس طرح واجب ہوتی ہے — کمپنی والے حصے سمیت مکمل رقم پر یا میرے حصے پر؟ اور کب ادا کرنی چاہیے؟ 4. اس وقت میں زکوٰۃ کس تاریخ سے ادا کرنا شروع کروں، جب مجھے اپنی صحیح تاریخِ نصاب بھی یاد نہیں؟ مہربانی فرما کر اس کی شرعی رہنمائی فرمادیں۔ جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں پراویڈنٹ فنڈ کی مد میں جمع ہونے والی رقم پر اس کے وصول ہونے تک کوئی زکوۃ لازم نہ ہوگی، البتہ اس کے علاوہ سائل کے پاس موجود سرمایہ جو انہوں نے مختلف جگہوں پرکرپٹو کرنسی، اسٹاک مارکیٹ، اور میوچل فنڈ وغیرہ میں انویسٹ کیا ہے، تو اس کی مجموعی مالیت بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) ہونے کی وجہ سے سائل پر ادائیگی زکوۃ لازم ہوگی ،اب اگر سائل کو اپنا صاحب نصاب بننے کا وقت یقینی طور پر معلوم نہ ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ غالب گمان کےمطابق فیصلہ کرتے ہوئے ابتدائی صاحب نصاب بننے کے لیے قمری مہینہ کے حساب سے ایک تاریخ متعین کر لے، پھر جتنا عرصہ انہوں نے زکوۃ ادا نہیں کی، تو اتنے سالوں کی زکوۃ ادا کرے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کی ادائیگی زکوۃ کی تاریخ کو اپنے پاس موجود بینک بیلنس اور اموال تجارت کی مجموعی مالیت سے ڈھائی فیصد بطور زکوۃ منہا کر دیں ،اس کے بعد دوسرے سال اور اسی طرح تیسرے سال کی تاریخوں پر موجود اموال زکوۃ کا غالب گمان کے مطابق اندازہ لگا کر اسے واجب الاداء زکوۃ کی رقم منہا کرنے کے بعد بقیہ مالیت سے ڈھائی فیصد بطور زکوۃ الگ کرتے رہیں یہاں تک کہ تمام سالوں کی زکوۃ مکمل ہو سکے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدير: وأما زكاة الأجرة المعجلة عن سنين في الإجارة الطويلة التي يفعلها بعض الناس عقودًا ويشترطون الخيار ثلاثة أيام في رأس كل شهر فتجب على الآجر؛ لأنه ملكها بالقبض الخ۔ (ج: 2،ص:165،ط: دارالفکر)۔
وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا الخ۔ (كتاب الزكوة، فَصْلٌ صِفَةُ الْوَاجِبِ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ ،ج: 2،ص:22، ط: دار الكتب العلمية)۔
وفی رد المحتار: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. قال المحقق: وفي المحيط: ويعتبر يوم الأداء بالإجماع، وهو الأصح، فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليها عنده وعندهما الخ۔ (كتاب الزكاة ،باب زكاة الغنم، ج: 2،ص:276، ط: دار الفكر)۔
وفی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح الخ۔(کتاب الشرکة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6،ص:59، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالھادی شعیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89648کی تصدیق کریں
0     243
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات