زکوۃ و نصاب زکوۃ

رہائشی گھرکا اکثر اوقات خالی رہنے سے اس پر زکوۃ لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
89722
| تاریخ :
2025-12-07
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

رہائشی گھرکا اکثر اوقات خالی رہنے سے اس پر زکوۃ لازم ہوگی؟

میں نے آپ سے ایک سے زیادہ گھروں پر زکوٰۃ کے بارے میں پوچھنا تھا۔ میرا ایک گھر برطانیہ میں ہے، جہاں میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہوں، اور میرا ایک گھر کراچی میں بھی ہے ،جو خالی رہتا ہے ،اور جب ہم پاکستان آتے ہیں تو استعمال میں آتا ہے، کیا اس گھر اور اس کے سامان پر زکوٰۃ واجب ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ رہائشی مکانات اور ذاتی استعمال کا سامان مالِ زکوٰۃ میں شامل نہیں،لہذاصورتِ مسئولہ میں سائل جس گھر کوبرطانیہ میں اپنی رہائش کے لیے استعمال کرتا ہے اور جو گھر کراچی میں ذاتی استعمال کے لیےبنایاگیا ہے (اگرچہ زیادہ تر وقت خالی رہتا ہو اورصرف آنے پر استعمال ہوتا ہو)، ان دونوں گھروں پر زکوٰۃ واجب نہیں، اسی طرح ان گھروں میں موجود فرنیچر، برتن اور گھریلو سامان پر بھی زکوٰۃ لازم نہیں۔البتہ اگر کراچی والا گھر کرایہ پر دیا جائے ،تواگرچہ خود گھر پر زکوٰۃ نہیں ہوگی،تاہم اگرسائل پہلے سے صاحب نصاب ہو یا کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم نصاب کے بقدر ہو، تواس پر سالانہ زکوٰۃ واجب ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما وفی الهندية ومنھا فراغ المال عن حاجته الاصلية فليس فی دور السكنى وثياب البدن واثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة وكذا طعام اهله وما يتجمل به من الاواني اذا لم يكن من الذهب والفضة وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها اذا لم يكن للتجارة وكذا لو اشترى فلوسا للنفقة كذا فی العيني شرح الهداية اھ (1 / 172)
وفی الدر المختار: (ولا فی ثیاب البدن) المحتاج الیھا لدفع الحر والبرد ابن ملک وأثاث المنزل ودور السکنی ونحوھا) وکذا الکتب وان لم تکن لاھلھا اذا لم تنو للتجارۃ اھ(2 /245)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قمچی بیک ساقی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89722کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات