میں نے اپنے کاروبار سے منافع کمایا اور اس رقم سے ایک دکان خرید لی، اور دو مہینے کے اندر اس کو کرائے پر چڑھا دیا، مجھے یہ جاننا ہے کہ میں زکوٰۃ دکان کی قیمت پر ادا کروں یا کرائے کے اوپر؟
واضح ہو کہ جو دکان ذاتی استعمال یا کرایہ پردیکرنفع حاصل کرنے کی غرض سے خریدی جائےاورخریدتے وقت اسے فروخت کرکے نفع حاصل کرنامقصودنہ ہوتو اس دوکان کی مالیت پر زکوۃ واجب نہ ہوگی، بلکہ اس سے حاصل شدہ کرایےپرہوگی ، لہذا صورت مسئولہ میں دوکان سے حاصل ہونے والے کرایہ کی رقم تنہا یادیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے، تو زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے پر جو رقم موجود ہو، اس کی زکوٰۃ لازم ہوگی،اور سال بھر میں جتنا کرایہ استعمال کرلیا، اس پر کوئی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی۔
کما فی الهداية: الزكوة واجبة على الحر العاقل ۔۔۔۔اذا ملك نصابا ملكا تاما ، وحال عليه الحول۔ (كتاب الزكوة ج 1 ص 201،200)
و فی الخانية على هامش الهندية: ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة۔(كتاب الزكوة،فصل فى مال التجارة،ج1،ص251)-