زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحب نصاب بہن کو زکوۃ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
89914
| تاریخ :
2025-12-11
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

صاحب نصاب بہن کو زکوۃ دینے کا حکم

میری بہن کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے پاس کچھ رقم ہے (جو نصاب سے زیادہ ہے) لیکن وہ رقم کہیں ایسی جگہ پر لگائی گئی ہے جہاں سے اسے ماہانہ منافع ملتا ہے تاکہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کر سکے۔ اسے مجھ سے اور دیگر گھر والوں سے بھی کچھ مالی مدد ملتی ہے تاکہ وہ اپنے اخراجات چلا سکے۔ میری رائے میں وہ اپنے اخراجات کچھ کم کر کے گنجائش پیدا کر سکتی ہے، مگر وہ ایسا نہیں کرتی۔ کیا ایسی صورت میں وہ زکوٰۃ کی مستحق ہوگی، جبکہ اس کے پاس نصاب سے زیادہ رقم ہے جو کسی ایسی سرمایہ کاری میں لگی ہوئی ہے جس پر اس کا مکمل اختیار نہیں (مثلاً ایک ٹرسٹ فنڈ)؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائل کی بہن اگر واقعتا صاحب نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی بقدر نقد رقم موجود ہو اگرچہ سائل کی بہن نے وہ رقم کسی فنڈ وغیرہ میں ماہانہ منافع کی غرض سے انویسٹمنٹ کر رکھی ہو اور اس کا مذکور فنڈ سے فوری نکالنا ممکن نہ ہو، تب بھی سائل کی بہن کے لیے زکوۃ لینا شرعا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ،البتہ اگر مذکور بہن ضرورت مند ہو تو سائل کے لیے زکوۃ کے بجائے صدقات نافلہ وغیرہ سے اس کی مدد کرنا شرعا جائز بلکہ دہرائے اجر و ثواب کا باعث ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما الفتاوى الهندية : لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابًا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلًا عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي.(كتاب الزكوة، ج:1، ص:189)
وفی الدر المختار : وفي المبسوط: ‌لا ‌يجوز ‌دفع ‌الزكاة إلى من يملك نصابا الخ(ج:2،ص:340)
و البناية شرح الهداية: (ولا يجوز دفع الزكاة إلى ‌من ‌ملك ‌نصابا من أي مال كان) ش: يعني سواء كان من النقدين أو من العروض أو من السوائم م: (لأن الغنى الشرعي مقدر به) ش: أي بالنصابم۔(ج:3،ص:476)
العناية شرح الهداية :ولا يجوز دفع الزكاة إلى ‌من ‌ملك ‌نصابا) سواء كان من النقود أو السوائم أو العروض وهو فاضل عن حوائجه الأصلية(ج:2،ص:277)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالقیوم قدوس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89914کی تصدیق کریں
0     200
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات