اگر لوگ اکٹھے ہو کر جانور ذبح کریں(تاکہ) اجتماعی صدقہ کریں اور نیت یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاؤ ہو، آفات ٹلیں یا بارش نازل ہو،تو یہ صدقہ جائز ہے یا نہیں؟(نوٹ" )لوگوں کی نیت فرض اور واجب کی نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں لوگوں کاآفات و مصائب اورغضب الہی سے حفاظت یا طلبِ رحمت و نزول ِبارش کےلیےرضائے الہی کی خاطر اجتماعی طور پر جانور ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کرنےکا عمل فی نفسہٖ جائز ہے؛ کیونکہ صدقہ و خیرات کے ذریعے بلاؤں کے ٹلنے اور رحمتِ الٰہی کے نزول کی امید رکھنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے۔ لہٰذامذکورہ نیت کے ساتھ نفلی صدقہ کے طور پر اجتماعی صدقہ کا جانور ذبح کرکے لوگوں میں گوشت تقسیم کرنا شرعاً جائز ہے۔
البتہ اس عمل کو فرض، واجب نہ سمجھا جائے، اور اس کے لیے ایسی مخصوص ہیئت، تاریخ یا طریقہ مقرر کرنےسےبھی گریزکیاجائے کہ جس کی وجہ سےاس کودین کا لازمی حصہ سمجھے جانے کاشائبہ پیداہو۔ اسی طرح اس میں کسی غیر شرعی عقیدہ کو شامل کرنے سے بھی اجتناب لازم ہے۔
كما في التفسير المظھری : إن تبدوا الصدقات اى تظهروها لا على قصد الرياء فنعما هي اى فنعم شيئا ابداؤها وإن تخفوها وتؤتوها الفقراء مع الإخفاء فهو خير لكم وأفضل من الصدقة العلانية عن ابى امامة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صدقة السر تطفئ غضب الرب وصلة الرحم تزيد في العمر رواہ الطبرانی بسند حسن ۔ (ج: 1، ص: 389، م:رشیدیۃ )
وفی الصحیح المسلم : عن عدي عن حاتم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه ذكر النار فتعوذ منها وأشاح بوجهه ثلاث مرار ثم قال: اتقوا النار ولو بشق تمرة فإن لم تجدوا، فبكلمة طيبة۔ ( باب الحث علی الصدقۃالخ، ج: 1، ص: 529، رقم: 1016، م:البشرٰی)
وفی سنن الترمذی : عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء۔ ( باب ماجاء فی فضل الصدقۃ، ج: 1، ص: 302، م: البشرٰی)
وفی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار: والصدقۃ العطیۃ التی یراد بھا المثوبۃ عندہ تعالٰی سمیت بھا لانھا تظھر صدق رغبۃ الرجل فی تلک المثوبۃ اھ۔ (ص: 432، م: رشیدیۃ)