زکوۃ و نصاب زکوۃ

تنخواہ یا اجرت کی مد میں پھنسی ہوئی رقوم کی گزشتہ سالوں کی زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
90077
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

تنخواہ یا اجرت کی مد میں پھنسی ہوئی رقوم کی گزشتہ سالوں کی زکوۃ کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں :
کہ ہم باہر ملک میں رہتے ہیں، جہاں پر ہم مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں، اور اپنی گاڑیاں ان کمپنیوں میں متعین اجرت / تنخواہ کے عوض یومیہ یاماہانہ کی بنیاد پر لگاتے ہیں، اور یہ کمپنیاں کبھی کبھی مہینوں،بلکہ سالوں تک ہماری اجرت روک لیتی ہیں، اور پھر یہ جمع شد ہ ر قم کئی سال کے بعد منت سماجت اور کبھی ان کے خلاف قانونی کاروائی کے بعد ہی ہمیں ملتی ہے، ابھی کچھ ساتھیوں کو بعض رقم چھ سات سال کے بعد ملی ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے مہینہ کے آخر میں اس سال کی زکوۃ نکالنی ہے ، تو کیا اس سال کی زکوۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان جمع شده ر قم پر گزشتہ چھ سات سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی بھی لازم ہو گی، یا گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہے ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی نے اپنے دوستوں کو بطور قرض کچھ رقم دی ہو، تو کیا بطور قرض دی ہوئی رقم پر بھی ادائیگی ز کو ۃ لازم ہوگی ؟ اور اگر اس قرض دی ہوئی رقم کے کئی سال ہو چکے ہوں، تو کیا گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی ؟ اگر لازم ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیونکہ میں نے کئی سال پہلے اپنے مختلف دوستوں کو بطور قرض رقم دی تھی جو کہ ابھی کئی سالوں بعد وصول ہوئی ہے، اور بعض دوستوں کو کئی سال قبل بطور قرض دی ہوئی رقم کے سال اور تاریخ کا صحیح تعین بھی نہیں ہو رہا، تو ایسی صورت میں زکوۃ نکالتے وقت کیا کیا جائے،تاکہ زکوۃ کی ادائیگی شریعت کے مطابق ممکن ہو جائے۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر بطور قرض دی ہوئی رقم پر گزشتہ تمام سالوں کی ادائیگی زکوۃ لازم ہے، تو پچھلے کئی سالوں کے دوران مجھے اپنے مختلف دوستوں سے مختلف اوقات میں ان کو بطور قرض دی جانے والی کچھ رقم ملی ہے ، لیکن میں نے اس رقم کو صرف اس سال زکوۃ کی ادائیگی کے وقت بقیہ رقم کے ساتھ شامل کر کے زکوۃ نکالا ہے، جبکہ گزشتہ سالوں کی ادائیگی زکوۃ کے وجوب کا مجھے علم نہیں تھا، تو اس کے تدارک کیلئے کیا کیا جائے ؟ جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی شخص کی اجرت یا تنخواہ کمپنی کے ذمے ثابت ہو، مگر کمپنی نے وہ رقم مہینوں یا سالوں تک ادا نہ کی ہو، اور وہ رقم عملاً اس کے قبضہ اور تصرف میں نہ ہو، تو ایسی رقم کو فقہ کی اصطلاح میں دَینِ ضعیف کہا جاتا ہے۔لہٰذاجب تک وہ اجرت وصول نہ ہو، اس مدت کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔اسی طرح جب وہ رقم کئی سال بعد یکمشت یا تدریجاً وصول ہو جائے، تو وصولی کے بعد بھی گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں۔
جبکہ قرض دی ہوئی رقم اگرچہ قرض دینے والے کی ملکیت تو ہوتی ہے، مگر اس کے قبضہ اور تصرف میں نہیں ہوتی، اس لیے اگر قرض ایسے شخص کو دیا گیا ہو جو صاحبِ حیثیت ہو اور رقم کی واپسی کی امید ہوتو بہتر یہ ہے کہ ہر سال اس رقم کو شامل کر کے زکوٰۃ ادا کی جائے۔لیکن اگر ایسا نہ کیا ہو، یاقرض ایسے شخص کو دیا گیا ہو جس سے رقم ملنے کی امید کم ہو تورقم کی وصولی تک زکوٰۃ کی ادائیگی کومؤخرکرنے کی گنجائش ہے ،لیکن اس صورت میں رقم کی وصولی کے بعد گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ یکمشت ادا کرنا واجب ہوگا۔
تاہم اگرسائل کوقرض کی رقم مختلف اوقات میں ملتی رہی اور حکم شرعی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اس نے گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، تو جتنی رقم گزشتہ برسوں میں قرض کی واپسی کی صورت میں ملی،ان تمام سالوں کی زکوٰۃ کا تخمینہ (اندازہ) لگا کر احتیاطاًکچھ زائد مقدارکے ساتھ زکوٰۃ ادا کردے ، تاکہ ذمہ بری ہو جائے۔اگر قرض دیے جانے کی تاریخ یا سال یاد نہ ہو، تو غالب گمان کے مطابق مدت متعین کر کے اسی حساب سے زکوٰۃ ادا کر دی جائے، یہ بھی شرعاً کافی ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار: (ولا في مال مفقود) وجده بعد سنين (‌وساقط ‌في ‌بحر) استخرجه بعدها (ومغصوب لا بينة عليه) فلو له بينة تجب لما مضى إلا في غصب السائمة فلا تجب، وإن كان الغاصب مقرا كما في الخانية ( كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أيضا : (ولو كان الدين على مقر مليء أو) على (معسر أو مفلس) (إلى قوله) (فوصل إلى ملكه لزم زكاة ما مضى) ( كتاب الزكاة، ج 2، ص 266، ط : سعيد)-
و فيه أیضًا : (و) اعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثۃ : قویّ، ومتوسط وضعیف، (فـتجب) زکاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لکن لا فورا بل(عند قبض أربعین درہما من الدین) القویّ کقرض (وبدل مال تجارۃ) فکلما قبض أربعین درهما یلزمہ درہم۔ الخ(كتاب الزكاة، ج2، ص305،ط: سعيد)-
وفی الھندیۃ: وأما سائر ‌الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلا عن شيء نحو الميراث أو بفعله لا بدلا عن شيء كالوصية أو بفعله بدلا عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابا ويحول عليه الحول. ووسط، وهو ما يجب بدلا عن مال ليس للتجارة كعبيد الخدمة وثياب البذلة إذا قبض مائتين زكى لما مضى في رواية الأصل وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي الخ(کتاب الزکوٰۃ،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج1،ص175،ط:ماجدیۃ)۔
و فی التاتارخانیہ: و لو ملک الرجل ألف درھم و مضی علیھا ثلاثۃ أحوال، کان علیہ للحول الأولی خمسۃ و عشرون، و للحول الثانی فی قول أبی حنیفۃ علیہ زکاۃ تسع مأۃ و ستین، لأنّ عندہ لا تجب الزکاۃ فیما دون الأربعین، و للحول الثالث زکاۃ تسع مأۃ و عشرین، و عند ھما تجب الزکاۃ فی الکسور أیضاً، الخ ( کتاب الزکاۃ، فصل فی بیان ما یمنع وجوب الزکاۃ، ج 3، ص 232، رقم: 4217، ط: رشیدیۃ )-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90077کی تصدیق کریں
0     221
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات