کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کو زکوۃ کی رقم بطور ادھار دی جائے اور جب وہ قرض واپس کر دے تو پھر اس رقم کی زکوۃ ادا کر دی جائے، کیا یہ طریقہ عند الشرع درست ہے؟براہِ کرم راہنمائی فرمائیے۔
واضح ہو کہ زکاۃ واجب ہونے کے بعد فوری اداکرنی چاہیئے ، بلاعذراس میں تاخیرکرنامکروہ اورگناہ کی بات ہے، جبکہ کسی حاجت مندکوبوقت ضرورت ادھاردینا اگرچہ اجروثواب کاکام ہے، تاہم یہ ایساعذرنہیں کہ جس کی بناء پرایک واجب حکم میں تاخیربرداشت کی جاسکے، لہذاکسی کوادھاردیکراس کی واپسی تک زکاۃ کی ادائیگی کومؤخرکرناعندالشرع درست طریقہ نہیں، جس سے احترازچاہئیے۔
کما فی الھندیۃ : وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر ، و في رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت ، و الأول أصح كذا في التهذيب الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المحتار: (وقیل فوری) أی واجب علی الفور (وعلیہ الفتوی) کما فی شرح الوھبانیۃ (فیأثم بتأخیرھا) بلا عذر الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 271، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ فيأثم بتأخيرها الخ) ظاهره الإثم بالتأخير ولو قل كيوم أو يومين لأنهم فسروا الفور بأول أوقات الإمكان وقد يقال المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بالنون إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم فتأمل الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 272، ط: ایچ ایم سعید)۔