زکوۃ و نصاب زکوۃ

کسی کو قرض دینے کی بناء پر زکوٰۃ کی ادائیگی کو مؤخر کرنا

فتوی نمبر :
90461
| تاریخ :
2026-01-01
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کسی کو قرض دینے کی بناء پر زکوٰۃ کی ادائیگی کو مؤخر کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کو زکوۃ کی رقم بطور ادھار دی جائے اور جب وہ قرض واپس کر دے تو پھر اس رقم کی زکوۃ ادا کر دی جائے، کیا یہ طریقہ عند الشرع درست ہے؟براہِ کرم راہنمائی فرمائیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکاۃ واجب ہونے کے بعد فوری اداکرنی چاہیئے ، بلاعذراس میں تاخیرکرنامکروہ اورگناہ کی بات ہے، جبکہ کسی حاجت مندکوبوقت ضرورت ادھاردینا اگرچہ اجروثواب کاکام ہے، تاہم یہ ایساعذرنہیں کہ جس کی بناء پرایک واجب حکم میں تاخیربرداشت کی جاسکے، لہذاکسی کوادھاردیکراس کی واپسی تک زکاۃ کی ادائیگی کومؤخرکرناعندالشرع درست طریقہ نہیں، جس سے احترازچاہئیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ : وتجب على الفور عند تمام الحول حتى يأثم بتأخيره من غير عذر ، و في رواية الرازي على التراخي حتى يأثم عند الموت ، و الأول أصح كذا في التهذيب الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 1، ص: 170، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المحتار: (وقیل فوری) أی واجب علی الفور (وعلیہ الفتوی) کما فی شرح الوھبانیۃ (فیأثم بتأخیرھا) بلا عذر الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 271، ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ فيأثم بتأخيرها الخ) ظاهره الإثم بالتأخير ولو قل كيوم أو يومين لأنهم فسروا الفور بأول أوقات الإمكان وقد يقال المراد أن لا يؤخر إلى العام القابل لما في البدائع عن المنتقى بالنون إذا لم يؤد حتى مضى حولان فقد أساء وأثم فتأمل الخ (کتاب الزکاۃ، ج: 2، ص: 272، ط: ایچ ایم سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90461کی تصدیق کریں
0     213
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات