اسلام علیکم مفتی صاحب
میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی نومبر 2023 کو ھوئی میری بیوی کے پاس سونا تھا اس کی زکوۃ نومبر 2024 میں ایک لاکھ روپیہ بنتی تھی اب نومبر 2025 میں میری زکوۃ ایک لاکھ سے اوپر بنتی تھی میں نے حساب لگوایا ہوا ہے کسی وجہ سے میری بیوی زکوۃ ادا نہیں کر سکی میں سعودی عرب ایا ہوں میں یہاں سے اس کو پیسے بھیجوں گا تو وہ زکوۃ ادا کرے گی اب 2026 میں میری بیوی زکوۃ ادا کرے گی انشاءاللہ تو پوچھنا یہ ہے کہ جو حساب میں نے لگوایا ہوا ہے نومبر 2024 کا اور نومبر 2025 کا تو اسی حساب سے میں میری بیوی زکوۃ ادا کرے گی۔
سائل کی بیوی کے ذمہ سال 2024 ءاور سال 2025 ءکی جو زکوۃ واجب الادا ءہے اس کی ادئیگی لازم اور ضروری ہے ،جب کہ گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سائل کی بیوی اپنے پاس موجود سونے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو معلوم کرے، پھر مجموعی رقم میں سے ڈھائی فیصد کے حساب سے پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے۔ اس کے بعد بقیہ رقم میں سے ڈھائی فیصد کے حساب سے دوسرے سال کی زکوٰۃ ادا کرے،پھر اگلے سال کا حساب کرتے وقت گزشتہ ادا کی گئی زکوٰۃ کی مقدار کو منہا کر کے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے۔ اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے۔
وكما في بدائع الصنائع : لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، الخ،(ج: 2 فصل صفۃ الواجب فی اموال التجارہ ص : 22 ناشر ؛ سعید)
وفي البنایۃ : فقال: الزكاة واجبة على الحر العاقل المسلم الخ ،( ج: 4 حکم الحج ص : 138 ناشر : بیروت )
وفي حاشية ابن العابدين : (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم الخ (ج: 3 باب زکاۃ المال ص : 295 نااشر : سعید)