اسلام آباد کے مولانا ،مفتی اور علماء حضرات کے فتوی کے مطابق اگر مال(گولڈ)نابالغ بچوں میں تقسیم کردیا جائےتو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،اگر گولڈ بچوں کو انکے سرپرستی میں دیا گیا ہے تو بالغ ہونے تک اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی
مذکور علماء کا یہ قول صحیح ہے کہ اگر کوئی اپنا سونا کسی نابالغ بچے کو ہبہ کردے اور بطور سرپرست اس پر قبضہ کرلے ، تو نابالغ کی ملکیت ہونے کیوجہ سے اس پر زکوۃلازم نہ ہوگی ،تاہم اسے زکوۃ نہ دینے کیلئے حیلہ بنانا شرعاًجائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھدایۃ: قال: "وإذا وهب الأب لابنه الصغير هبة ملكها الابن بالعقد"؛ لأنه في قبض الأب فينوب عن قبض الهبة،(الی ان قال) وإن وهب له أجنبي هبة تمت بقبض الأب(کتاب الھبۃ، ج:3 ،ص:224 ،ط: داراحیاءالتراث العربی)
و فی الدر: (وَشَرْطُ افْتِرَاضِهَا عَقْلٌ وَبُلُوغٌ)(ج:2 ص258 ط سعید)
و فی الرد: (قَوْلُهُ: وَهِيَ مِنْ الْحِيَلِ) أَيْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةُ مِنْ حِيَلِ إسْقَاطِ الزَّكَاةِ بِأَنْ يَهَبَ النِّصَابَ قَبْلَ الْحَوْلِ بِيَوْمٍ مَثَلًا ثُمَّ يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ بَعْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَوْ رَجَعَ قَبْلَ تَمَامِ الْحَوْلِ تَسْقُطُ عَنْهُ الزَّكَاةُ أَيْضًا لَبُطْلَانِ الْحَوْلِ بِزَوَالِ الْمِلْكِ تَأَمَّلْ وَقَدَّمْنَا الِاخْتِلَافَ فِي كَرَاهَةِ الْحِيلَةِ(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ المال ،ج:2 ،ص:308،ط سعید)