زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض لے کر کئے جانے والے کاروبار میں زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
90508
| تاریخ :
2026-01-02
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض لے کر کئے جانے والے کاروبار میں زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ،
میں نے کاروبار کے لیے اپنی امی سے30 لاکھ روپے لئے ہیں، میں اس سے کاروبار کرتا ہوں لیکن جو کماتا ہوں اس سے صرف اخراجات پورے ہوتے ہیں ،کچھ بچتا نہیں ہے تو اس 30 لاکھ روپے پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس نے والدہ سے مذکور رقم بطور قرض لی ہےیا والدہ نےیہ رقم سائل کو ہبہ کر دی ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تا ہم اگر یہ رقم والدہ نے سائل کو ہبہ کردی ہو تو ایسی صورت میں اگر دکان یاکاروبار پر اتنا قرضہ نہ ہو کہ جسے منہا کرنے کے بعدبقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی )مالیت نہ بچتی ہو تو ایسی صورت میں معمول کے مطابق تھوڑا بہت قرض منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم (جو کہ زکوۃ کے نصاب کو پہنچتی ہو)پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہوگی ۔لیکن اگر یہ رقم سائل کے ذمہ قرض ہو اورقرض کو منھا کرنے کے بعد اس کے پاس اس کے علاوہ سونا، چاندی ،نقدی مال تجارت یا ان سب کا مجموعہ بقدر نصاب نہ ہو تو ایسی صورت سائل کے ذمہ زکوٰۃ لازم نہ ہوگی البتہ اس صورت میں سائل کی والدہ پر اس رقم کی سالانہ زکوٰۃ لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدیر: ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه) وقال الشافعي: تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب تام. ولنا أنه مشغول بحاجته الأصلية فاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة (وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا) لفراغه عن الحاجة الأصلية،(ج:2،ص:160)
وفی الدر المختار: ‌اعلم ‌أن ‌الديون ‌عند ‌الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم(ج:2،ص:305،مط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً: (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك (الی قولہ) (فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة(الی قولہ) و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم(الی قولہ) نام ولو تقديرا۔(ج:2،ص:263)
وفی الھدایۃ:‌ومن ‌كان ‌عليه ‌دين يحيط بماله فلا زكاة عليه(الیٰ قولہ) وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا"(ج 1، ص:95)
وفي العناية: (‌ومن ‌كان ‌عليه ‌دين ‌يحيط بماله) وله مطالب من جهة العباد سواء كان لله كالزكاة أو للعباد كالقرض، وثمن المبيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة ومهر المرأة سواء كان من النقود أو من غيرها وسواء كان حالا أو مؤجلا (فلا زكاة عليه.اهـ (كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 160، ط: دار الفكر، بيروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90508کی تصدیق کریں
0     137
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات