السلام علیکم...میں نے نیت کی تھی اور زبان سے بھی الفاظ ادا کئے تھے کہ جو بھی کماؤں گا اس کا25فیصد اللہ کی راہ میں دوں گا تو کیا یہ صدقہ اپنے گھر والوں کو یا مسجد میں دیا جاسکتا ہے یا کسی غریب کو دینا ضروری ہے اور کیا اس رقم پر بھی صدقہ کرنا ہوگاجب میں کسی سے اپنا ادھار واپس لوں؟
جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ ہمارے عرف میں سوال میں ذکر کردہ الفاظ عموما اپنی کمائی سے اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں کچھ رقم صدقہ و خیرات کے عزم کے اظہار کے لیئے بولے جاتے ہیں ، جس کی حیثیت نذر کی نہیں ، بلکہ نفلی صدقہ کرنے کے عزم اور ارادے کی ہوتی ہے ، لہذا سائل نے بھی اگر اسی نیت کے ساتھ اپنی کمائی سے اللہ کی راہ میں کچھ صدقہ و خیرات کا عزم کیا ہو ، تو یہ رقم چونکہ نفلی صدقہ کے زمرے میں آتی ہے، اس لئے سائل اس رقم کو اپنے اہل و عیال سمیت کسی بھی خیر کے کام میں خرچ کرسکتا ہے ، شرعا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
کما فی البزازیۃ : ان عوفیت صمت کذا لم یجب ما لم یقل للہ علی وفی الاستحسان یجب وان لم یکن تعلیقا لا یجب قیاسا واستحسانا کما اذا قال انا احج فلا شیء اھ ( کتاب الایمان ، ج : 4 ، ص : 272 ، ط : ماجدیۃ )
و فی بدائع الصنائع واما صدقۃ التطوع فیجوز صرفھا الی الغنی لانھا تجری مجری الھبۃ اھ( کتاب الزکاۃ ، فصل واما الذی یرجع الی المؤدی ، ج : 2 ، ص : 47 ، ط : سعید )