میرے سسرال والوں نے جامعہ بنوریہ سے ہی فتویٰ لیا ہے کہ اگر ہمارے پاس سونا ہے اور وہ ہمارے استعمال میں ہے، تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوتی، جبکہ میں شادی سے پہلے اپنے پاس موجود سونے کی زکوٰۃ دیتی رہی ہوں ۔میرے پاس ساڑھے تین تولہ سونا اور ایک لاکھ نقدی ہے (نقدی کسی نے مجھ سے لی ہوئی ہے اور في الحال واپسی کا امکان نہیں ہے)۔اور میرے پاس یا میرے شوہر کے پاس سونے کی زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے کوئی اسباب یا نقدی نہیں ہے، تو کیا میں اپنا سونا بیچ کر اپنی زکوٰۃ ادا کروں ؟
واضح ہو کہ سونے کا زیور جس مقصد کے لیے بھی ہو،جیسا بھی ہو اگر وہ سونا یا دیگر اموال زكوة -جیسے نقدی یا مال تجارت وغیره- کے ساتھ مل کراس کی مجموعی مقدار نصاب تک پہنچ جائے تو اس كى مجموعى مالىت پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے،لہذا سائلہ کی ملکیت میں تین تولہ سونا (اگرچہ استعمال کے لیے ہی کیوں نہ ہو)اور ایک لاکھ کے بقدر نقدی موجود ہو اور اس پر قمری سال بھی گزر چکا ہو،تو اس وقت چونکہ تین تولہ سونے اور اس قدر نقدی کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زائد بن جاتی ہے،اس لیے سائلہ کو اس مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ دینا لازم ہوگا،اب اگر اس کے پاس فی الوقت پوری رقم موجود نہ ہو تو کچھ زیور فروخت کر کے بھی وہ زکوۃ ادا کر سکتی ہے،اور اگر وہ چاہے تو زکوۃ کی رقم متعين کر کے ایک جگہ لکھ دے، پھر يكمشت نہ سہى تھوڑی تھوڑی مقدار اس میں سے ادا كرتى رہا كرے، ليكن ايسى صورت ميں بہتر يہ ہے كہ اگلے سال كے آنے سے قبل اس زكوة كى پورى رقم ادا كر دے.
كما في الدر المختار: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا.اهـ (باب زكاة المال، ج: 2، ص: 298، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: (و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض، (إلى قوله) ويعتبر ما مضى من الحول قبل القبض في الأصح.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: ويعتبر ما مضى من الحول) أي في الدين المتوسط؛ لأن الخلاف فيه، أما القوي فلا خلاف فيه لما في المحيط من أنه تجب الزكاة فيه بحول الأصل، لكن لا يلزمه الأداء حتى يقبض منه أربعين درهما.اهـ (ج: 2، ص: 305، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: في الشرنبلالية: الفلوس إن كانت أثمانا رائجة أو سلعا للتجارة تجب الزكاة في قيمتها وإلا فلا. اهـ. (باب زكاة المال، ج: 2، ص: 300)
وفي الهندية: ولو أدى من خلاف جنسه يعتبر القيمة بالإجماع كذا في التبيين.اهـ (الباب الثالث في زكاة الذهب والقضة، ج: 1، ص: 179، ط: مكتبة ماجدية)
وفيها أيضا: وقوي، وهو ما يجب بدلا عن سلع التجارة إذا قبض أربعين زكى لما مضى كذا في الزاهدي.اهـ (ج: 1، ص: 175)