میں نے اپنی سونے کی زیورات گزشتہ 16 سال سے اپنی والدہ کے گھر رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے دو سال سے ان سے اپنے زیورات واپس مانگے ہیں لیکن وہ مجھے واپس نہیں دے رہیں۔ نہ ہی میں ان کو استعمال کر رہی ہوں، تو کیا اس زیورات پر مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے؟ میں ہر سال زکوٰۃ ادا کر رہی ہوں، لیکن اس کے باوجود میں بار بار اپنے زیورات مانگ رہی ہوں اور وہ مجھے نہیں دے رہیں۔ تو کیا تقریباً موجودہ قیمت کے مطابق دو لاکھ مالیت کے ان زیورات کی زکوٰۃ ادا کرنا میری ذمہ داری ہے؟ براہِ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔ جزاک اللہ۔
سائلہ نے اپنی والدہ کےپاس جو سونا بطور امانت رکھوایا ہے وہ سائلہ ہی کی ملکیت ہے سائلہ کی والدہ پرلازم ہے ،کہ سائلہ کو اس کاسونا واپس کر کے مؤاخذ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے ، لیکن اگر سائلہ کی والدہ سائلہ کی طرف سے مطالبے کے باوجود سائلہ کا سونا واپس نہیں کرتی ،اور نہ ہی سائلہ کے لئے اپنی والدہ سے کسی طرح سے سونا لینے کی کوئی صورت ممکن ہو تو ایسی صورت میں جب تک سائلہ کو اس کا سونا نہ ملے تب تک سائلہ کے ذمہ اس سونے کی زکوۃ لازم نہ ہو گی ۔
وفی تبیین الحقائق : «السبب هو المال النامي فلا بد منه تحقيقا أو تقديرا فإن لم يتمكن من الاستنماء فلا زكاة عليه لفقد شرطه وذلك مثل مال الضمار كالآبق والمفقود والمغصوب إذا لم يكن عليه بينة والمال الساقط في البحر والمدفون في المفازة إذا نسي مكانه والذي أخذه السلطان مصادرة الوديعة إذا نسي المودع،» الخ ( شروط وجوبہا ج: 1 ص: 256 ناشر المطبعۃ الکبری الامیریۃ )
وفی حاشیۃ ابن العابدین: «فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها)»الخ ، ( باب زکاۃ المال ج: 2 ص : 305 ناشر : سعید )
في بدائع الصنائع : «إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة.»اھ ( الشرائط ترجع علی من علیہ مال ،ج:2 ص: 7 ناشر : سعید )
وفیہ ایضاً: «ومنها الملك المطلق وهو أن يكون مملوكا له رقبة ويدا وهذا قول أصحابنا الثلاثة، وقال زفر: " اليد ليست بشرط " وهو قول الشافعي فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.» اھ ( فصل فی شرائط التی ترجع الی المال ج:2 ص؛ 9 ناشر : سعید )
»وفی حاشیۃ ابن العابدین: قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه ،الخ(باب ذکاۃ المال ،ج:2 ص: 295 ناشر : سعید )