زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ ادا کرنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
90780
| تاریخ :
2010-07-29
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوۃ ادا کرنے کی ایک صورت کا حکم

براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
01۔ دفتری اوقات کے دوران عبادت (نماز وغیرہ) کا کیا حکم ہے؟
02۔ کمپنی کی ملکیت کو ذاتی استعمال میں لانا، جیسے فوٹو اسٹیٹ، فون، اور ذاتی ای میل وغیرہ، اس کا کیا حکم ہے؟
03۔ کمپنی کی طرف سے ماہانہ تنخواہ میں جو پراویڈنٹ فنڈ (PF) کٹوتی کی جاتی ہے، جو پچھلے دس سالوں سے جاری ہے اور اسی رقم میں کمپنی کی طرف سے اضافہ بھی کیا جاتا ہے، اس پر زکوٰۃ کیسے حساب کی جائے؟
04۔ میں ایک پلاٹ کا کامیاب درخواست گزار ہوں جو KMC کی طرف سے الاٹ کیا گیا تھا، لیکن تاحال اس کا قبضہ نہیں ملا، کیونکہ کچھ رکاوٹیں وغیرہ موجود ہیں۔ میں نے پلاٹ کی پوری رقم ادا کر دی ہے جو کہ 25,000 روپے بنتی ہے، تو میں اس پر زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟
05۔ میری بیٹی کا نام قرۃ فاطمہ ہے، کیا یہ نام اسلامی نقطۂ نظر سے درست ہے؟
آپ کے فوری جواب کا منتظر ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ملازمت کے دوران میں ملازم کا نماز کی ادائیگی کے لیئے اتنی دیر پہلے مسجد جانا چاہیئے کہ جس میں وضوء سے فارغ ہوکر فرض اور سنت مؤکدہ کی ادائیگی ہوسکے ملازمت کے اوقات میں نوافل پڑھنا مناسب نہیں ہے 2 ) اگر کمپنی کی انتظامیہ کی طرف سے کمپنی کی اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت نہ ہو تو ملازم کے لیئے دفتر کے اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانا درست نہیں ہے 3 ) حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین اور افسران کو ریٹائرڈ ہونے یا فوت ہونے کی صورت میں مختلف طرح کے فنڈ دیے جاتے ہیں جیسے پراویڈنٹ فنڈ،بینولنٹ فنڈ،گریجویٹی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ ان تمام کے بارے میں اصولی بات یہ ہے کہ جب تک یہ رقم قبضہ میں نہ آجائے،اس وقت تک ان رقوم پر زکوۃ لازم نہیں اور قبضہ میں آنے کے بعد بھی پچھلے سالوں کی زکوۃ لازم نہیں اور اگر وہ شخص پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو اختتامِ سال پر اس کے پاس مذکور رقوم میں سے جتنی رقم باقی ہو،اس پر بھی زکوۃ لازم ہوگی۔4) اگر سائل نے مذکور پلاٹ کسی تجارتی غرض سے نہ لیا ہو بلکہ ذاتی اغراض کے لیئے خریدا ہو تو اس کی زکوٰۃ سائل پر لازم نہیں ہے 5 ) قرۃ فاطمہ نام شرعی لحاظ سے درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکوۃ المصابیح : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي ( کتاب البیوع ، باب الغصب والعاریہ ، ج : 1 ، ص : 255 ، ط : قدیمی کتب خانۃ )
و فی رد المختار تحت ( قوله ‌وليس ‌للخاص ‌أن يعمل لغيره ) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى ھ( مطلب ليس للأجير الخاص أن يصلي النافلة ، ج : 6 ، ص : 70 ، ط : سعید )
و فی الدر المختار : ( او نیۃ التجارۃ ) فی العروض اما صریحا ولا بد من مقارنتھا لعقد التجارۃ کما سیجیء او دلالۃ بان یشتری عینا بعرض التجارۃ ھ( کتاب الزکاۃ ، ج : 2 ، ص : 267 ، ط : سعید )
وفیہ ایضا : ولا فی کسب ماذون ، ولا فی مرھون بعد قبضہ ، ولا فیما اشتراہ لتجارۃ قبل قبضہ ( کتاب الزکاۃ ، ج : 2 ، ص : 263 ، ط : سعید )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و فی الفتاوی التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالی فی عبادہ ولا ذکرہ رسول اللہ ﷺ ولا استعملہ المسلمون تکلموا فیہ والاولی ان لا یفعل کذا فی المحیط ( کتاب الکراھیۃ ، الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد و کناھم ، ج : 5 ، ص : 362 ، ط : ماجدیۃ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90780کی تصدیق کریں
0     196
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات