زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم گھریلو اخرجات یا بیٹی کی تعلیم پر خرچ کرنا

فتوی نمبر :
90785
| تاریخ :
2026-01-11
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکوٰۃ کی رقم گھریلو اخرجات یا بیٹی کی تعلیم پر خرچ کرنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
محترم مفتی صاحب / دارالافتاء!
میں نہایت ادب کے ساتھ اپنی موجودہ مالی حالت کے بارے میں زکوٰۃ کی اہلیت سے متعلق ایک شرعی فتویٰ کی درخواست پیش کرتا ہوں۔ براہِ کرم درج ذیل تفصیل کا جائزہ فرما کر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
میں اس سے پہلے ڈی جی ایم ایچ آر اینڈ ایڈمنسٹریشن کے عہدے پر ملازم تھا اور میری آمدنی اتنی تھی کہ میں اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات باحسن و خوبی پوری کر لیتا تھا۔ تاہم بعض ناگہانی حالات کی وجہ سے میری ملازمت اچانک ختم ہو گئی۔ پچھلے چھ ماہ سے میں مسلسل کوشش کے باوجود مناسب ملازمت حاصل نہیں کر سکا۔
اس وقت محض گزر بسر کے لیے میں یانگو ڈرائیور کے طور پر ایک کرایے کی گاڑی چلا رہا ہوں۔ بدقسمتی سے میری موجودہ آمدنی بہت محدود ہے اور گھریلو بنیادی اخراجات، مثلاً کھانے پینے، یوٹیلیٹی بلز اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ میرے پاس نصاب کے برابر نہ کوئی بچت ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر اثاثہ، اور میری مالی حالت دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ مجھے اپنی بیٹی کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے، جو ناگزیر اور ضروری ہیں۔ موجودہ آمدنی کے باعث میں ان ذمہ داریوں کو مناسب طور پر ادا کرنے سے قاصر ہوں۔
مندرجہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر، میں مؤدبانہ طور پر درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی کا طالب ہوں:
1.کیا کم آمدنی والی ملازمت میں ہونے کے باوجود میری موجودہ مالی حالت میں، میں زکوٰۃ لینے کا مستحق ہوں؟
2.کیا زکوٰۃ کی رقم گھریلو بنیادی اخراجات (کچن کے اخراجات) کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے؟
3.جب میں خود استطاعت نہ رکھتا ہوں تو کیا زکوٰۃ کی رقم اپنی زیرِ کفالت بیٹی کی تعلیم کے اخراجات کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟
براہِ کرم میری صورتِ حال کے مطابق شرعی فتویٰ عنایت فرمائیں تاکہ میں اسلامی تعلیمات کے مطابق درست عمل کر سکوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو امت کی خدمت اور رہنمائی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
جزاکم اللہ خیراً، والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ مىں سائل اگر واقعی ضرورت مند اور مستحق ہو (یعنی اس كى ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت، نقدی یا حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان نہ ہو یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو) تو ایسی صورت میں اس کے لیے زکوۃ لینے کی شرعاً گنجائش ہے، اور وه یہ رقم حسب ضرورت گھرىلو اخراجات اور بىٹى كى تعلیم وغیرہ تمام امور میں استعمال کر سکتا ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين (إلى قوله) ويجوز دفعها إلى ‌من ‌يملك ‌أقل ‌من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. [كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1 ص:170و189 ط: رشيدية]
وفي الهداية: ولا إلى ولد غني إذا كان صغيرا" لأنه يعد غنيا بيسار أبيه بخلاف ما إذا كان كبيرا فقيرا لأنه لا يعد غنيا بيسار أبيه وإن كانت نفقته عليه. [كتاب الزكاة، ‌‌باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج:1 ص:111 ط: ‌‌كلمة دار إحياء التراث العربي]
وفي الدر المختار: (و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان. [كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج:2 ص:347 ط: سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90785کی تصدیق کریں
1     188
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات