زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
90926
| تاریخ :
2026-01-14
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا آپ مہربانی فرما کر درج ذیل سوالات کے جواب دینے میں میری مدد کر سکتے ہیں جو کسی نے مجھ سے پوچھے ہیں؟
سوال 1: بیٹی کی شادی کے لیے اگر پلاٹ لیا ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟
سوال 2: قسطوں پر لیے گئے فلیٹ یا گھر کی ابھی تک پوزیشن (قبضہ) نہ ملی ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟
سوال 3: کمرشل پراپرٹی یا دکان کی زکوٰۃ مارکیٹ ویلیو پر ہوگی یا کرائے کی آمدنی پر؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پلاٹ یا جائیداد وغیرہ کی خریداری کے وقت اگر تجارت (آگے بیچنے کی نیت) نہ ہو تواس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور تینوں قسم کے پلاٹس اگر تجارت کی نیت سے نہ خریدے گئے ہوں تو ان پر شرعاً زکوۃ لازم نہیں، البتہ وہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہو یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ ملا کر کرائے وغیرہ کی رقم بقدر نصاب ہو جائے تو سالانہ ڈھائی فیصد زکوۃ لازم ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

‌كما في السنن الكبرى للبيهقي: عن ابن عمر رضي الله عنه، قال: " ‌ليس ‌في ‌العروض زكاة إلا ما كان للتجارة. [(4/ 249 ط العلمية)]
وفي معراج الدراية في شرح الهداية: ولا تجب في دور السكنى وعبيد الخدمة ما لم تكن معدة للتجارة بالإجماع، ومال القنية ما يدخره لنفسه لا للبيع. [(2/ 563)]
وفي الدر المختار: والأصل أن ‌ما ‌عدا ‌الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة. [ط: سعيد، (2/ 273)]
وفي رد المحتار: (قوله ‌ما ‌عدا ‌الحجرين) هذا علم بالغلبة على الذهب والفضة ط وقوله: والسوائم بالنصب عطفا على الحجرين وما عدا ما ذكر كالجواهر والعقارات والمواشي العلوفة والعبيد والثياب والأمتعة ونحو ذلك من العروض. [ط: سعيد، (2/ 273)]
‌وفي خزانة المفتين: ولو ‌اشترى ‌الرجلُ ‌داراً أو عبداً للتجارة، ثمّ آجره يخرج من أن يكون للتجارة؛ لأنّه لما آجر فقد قصد المنفعة. [قسم العبادات (ص864 بترقيم الشاملة آليا)]
وفي بدائع الصنائع: ومنها الملك المطلق وهو أن يكون مملوكا له رقبة ويدا وهذا قول أصحابنا الثلاثة. [(2/ 9)]
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: لا تجب الزكاة في أعيان العمائر الاستغلالية والمصانع والسفن والطائرات وما أشبهها، بل تجب في صافي غلتها عند توافر شروط النصاب، وحولان الحول. ومقدار الزكاة: هو ربع العشر في نهاية الحول، أي ربع عشر صافي الغلة في نهاية الحول (أي 5،2%) كزكاة التجارة والنقود. [(3/ 1948)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90926کی تصدیق کریں
1     104
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات