سوال: دی گلوبل ریلیف ٹرسٹ (GRT) نے اپنے چارٹ میں یہ واضح کیا ہے کہ وہ زکوٰۃ کے فنڈ سے اپنے ورکرز اور کلیکٹرز کو بطور تنخواہ 12 فیصد دے رہے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ اور کیا شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں ایسا کرنا صحیح ہے؟
سوال میں مذکورہ ویلفیئر ٹرسٹ کے اصول و ضوابط اور طریقۂ کار کا ہمیں علم نہیں، اس لیے اس کے طریقۂ کار پر کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا، البتہ اصولی جواب یہ ہے کہ زکوۃ کی صحت و درستگی کے لیے ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم کسی مستحق کو بلا کسی عوض کے مالک بنا کر دی جائے، لہذا ملازم کی اجرت زکوۃ کی رقم سے دینا جائز نہیں، اور اس سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ بھی ادا نہیں ہوتی، اس لئے کسی بھی ویلفیئر ٹرسٹ کا بغیر حیلۂ تملیک اپنے ملازمین کی اجرت زکوۃ کی مد میں جمع شدہ رقم سے ادا کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) (إلى قوله) لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء ألخ (كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 344-345، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الهندية: وكذلك في جميع أبواب البر التي لا يقع بها التمليك كعمارة المساجد وبناء القناطر والرباطات لا يجوز صرف الزكاة إلى هذه الوجوه.(والحيلة أن يتصدق بمقدار زكاته) على فقير، ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة. اهـ (كتاب الحيل، الفصل الثالث في مسائل الزكاة، ج: 6، ص: 392)