کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ مالک اور بزگر دونوں شراکت دار ہو تو کیا مالک بزگر کو عشر دے سکتا ہے؟
واضح ہوکہ محض بزگر ہونے کی وجہ سے عشر لینا جائز نہیں، بلکہ اس بزگر کا شرعاًمستحقِ زکوٰۃ ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر بزگر اپنے حصے کی پیداوار کے باوجودصاحبِ نصاب نہ بنتاہو، تو مالک اپنے عشر کی رقم یا پیداوار کا عشر اس کو دے سکتا ہے۔
کما فی القرآن المجید: انما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم(التوبۃ:60)الآیۃ
وفی سنن ابی داؤد: عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تحل الصدقة لغني، إلا في سبيل الله، أو ابن السبيل، أو جار فقير يتصدق عليه، فيهدي لك أو يدعوك(باب من یجوز لہ اخذ الصدقۃ و ھو غنی ، ج :1،ص: ْ723، رقم: ٓ1657،م:بشری)
وفي الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ( باب المصرف،ج: 2، ص:339،م:کراچی)