کیا استعمال میں آنے والے سونے (مثلاً انگوٹھیاں، بالیاں وغیرہ) پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟زکوٰۃ کے حساب کے لیے کٹ آف تاریخ کیا ہوتی ہے؟
واضح ہو کہ سونے کا زیور خواہ استعمال میں ہو یا نہ ہو، اگر وہ نصاب (ساڑھے سات تولہ یعنی تقریباً 87.48 گرام) کو پہنچ جائے، تو اس پر زکوۃ لازم ہوتی ہے، بشرطیکہ اس میں زکوۃ فرض ہونے کی دیگر تمام شرائط بھی پائی جائیں۔ البتہ اگر سونا مذکور مقدار سے کم ہو، لیکن اس کے ساتھ چاندی، نقد رقم، یا مال تجارت میں سے کچھ ہو، اور مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو جائے تو زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا، ورنہ نہیں۔
جہاں تک زکوۃ کی کٹ آف تاریخ کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ قمری (اسلامی) تاریخ ہے، جس دن کسی شخص کی ملکیت میں پہلی بار نصاب کی مقدار قابل زکوٰۃ مال آیا ہو، اسی تاریخ کو ہر سال معیار بنایا جائے گا، اور اس دن دیکھا جائے گا کہ مجموعی قابل زکوٰۃ مال نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے یا نہیں، اگر ہے تو کل مال کا چالیسواں حصہ(٪ 2.5 ) زکوٰۃ کے طور پر ادا کرنا واجب ہوگا، اور اگر درمیان سال میں کمی بیشی ہوتی رہے تو اس کا اعتبار نہیں، اصل اعتبار سال پورا ہونے کے دن کا ہے۔ جبکہ زکوٰۃ کی ادائیگی جس دن کی جائے، اسی دن سونے کی موجودہ قیمت کو بنیاد بنایا جائے گا ،یعنی سال پورا ہونے والے دن کی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ ادائیگی کے وقت جو ریٹ ہو اسی کے مطابق زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
کما فی الشامیۃ: وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح،(کتاب الزکاۃ، ج: ۲، ص: ۲۸۶، ط: سعید)-
و فیہ ایضا: (واللازم) مبتدأ (في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا (أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب)،(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 298، ط: سعيد)-