السلام علیکم:میں نے اپنے ایک بھائی سے 30 لاکھ قرض لیا پلاٹ خریدنے کے لیے، پھر میں نے دوسرے بھائی سے 45 لاکھ قرض لیا ہے گھر بنانے کے لیے۔ میرے پاس فی الحال ابھی 8، 10 لاکھ اپنا ہے اور میں نے قرض قسطوں میں واپس کرنا ہے، تو مجھ پر زکوٰۃ ہوگی؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل کا ایک سال کے اندر جتنی رقم قسطوں کی صورت میں دینے کا بھائیوں سے معاہدہ ہوا ہے، اس رقم کو منہا کرنے کے بعد اگر سائل کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر رقم باقی رہ جائے، اور اس پر قمری سال بھی مکمل ہوا ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
كما في رد المحتار:(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع۔اھ(كتاب الزكاة،ج:٢،ص:٢٦١،ط:سعيد)
وفی بدائع الصنائع: وأما على ظاهر الرواية فلأن العشر مؤنة الأرض النامية كالخراج فلا يعتبر فيه غنى المالك، ولهذا لا يعتبر فيه أصل الملك عندنا حتى يجب في الأراضي الموقوفة وأرض المكاتب بخلاف الزكاة فإنه لا بد فيها من غنى المالك، والغنى لا يجامع الدين، وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع۔اھ (فصل شرائط فرضية الزكاة،ج:٢،ص:٦،ط:سعيد)
وفي الهنديه:(ومنها كون المال نصابا) فلا تجب في أقل منه هكذا في العيني شرح الكنز۔اھ(الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٢،ط:ماجديه)