کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک حجام ہے لوگوں کے بال کاٹتا ہے اس طور پر کہ اس گاؤں کے لوگوں نےبلکہ ان کے آباء واجداد نےزمین دی ہے جس کو ہم اپنی زبان میں (سیر ئ) کہتے ہیں کہ تو یہ زمین کاشت لیاکرو دوسرا یہ کہ زمین کے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگ فی گھر گندم اور مکئی کی فصل کی کٹائی کے بعد اس حجام کودس پندرہ کلو گندم اور مکئی بھی دیتے ہیں ،یہ زمین اور گندم مکئی لوگوں نے اس وجہ سے دی ہیں کہ لوگوں کے لیے بال کاٹتا ہے ،بقول حجام اس کی سالانہ آمدن چالیس پچاس من گندم ہیں ۔
اب پوچھنایہ ہے کہ اس حجام کے لیے زکوٰۃ لینا کیسا ہے ؟یاد رہے کہ اسی گندم مکئی کے علاوہ اس کا کوئی آمدن نہیں ہے۔
دوسرا یہ کہ حجام کہتا ہے کہ اگر میں یہ کام چھوڑ دوں کیونکہ لوگوں کی داڑھیاں منڈوانا بھی ہے تو یہ موجودہ لوگ مجھ سے زمین واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ زمین میرے باپ دادا کو ان لوگوں کے باپ دادا نے دی ہے بلکہ یقینی طور پر معطی بھی معلوم نہیں ہے اتنی پرانی چلی آرہی ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کےمطابق حجام کو دی گئی زمین کے متعلق جب تک پوری تفصیل (کہ کس کی طرف سے کس مد میں دی گئی ہے) واضح نہیں ہوتی، تب تک اس کے متعلق کوئی حکم بیان نہیں کیا جاسکتاہے، البتہ مذکور حجام کو گاؤں والوں کی طرف سے جو غلہ دیا جاتا ہے، اگر وہ اس کے سال بھر کی ضروریات میں صرف ہوجاتا ہو، اسکی ضروریات سے زائد نہ ہو، اور اس کے علاوہ بھی اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ، ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی ، مال تجارت اور ضرورت اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہو تو وہ مستحق زکوٰۃ ہے ،اور اسےزکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔
وفی صحیح مسلم: عن جابر بن عبد الله: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال (أيما رجل أعمر عمرى له ولعقبه، فأنها للذي أعطيها. لا ترجع إلى الذي أعطاها. لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث). ( باب العمری، ج: 3، ص: 45،ط: بیروت)
وفی بحر الرائق: وإذا مات الواهب فوارثه أجنبي عن العقد إذ هو ما أوجبه وهو مجرد خيار فلا يورث كخيار الشرط ( باب الرجوع فی الھبۃ، ج: 7، ص: 292، ط: دارالکتب الاسلامیہ)
وفی رد المحتار تحت قولہ ( فارغ عن حاجتہ ) كانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.
وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لا تكفيه وعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة عند محمد، وعند أبي يوسف لا يحل وكذا لو له كرم لا تكفيه غلته؛ ولو عنده طعام للقوت يساوي مائتي درهم، فإن كان كفاية شهر يحل أو كفاية سنة، قيل لا تحل، وقيل يحل، لأنه يستحق الصرف إلى الكفاية فيلحق بالعدم، وقد ادخر عليه الصلاة والسلام لنسائه قوت سنة، ولو له كسوة الشتاء وهو لا يحتاج إليها في الصيف يحل کذكر هذه الجملة في الفتاوى،وظاهر تعليله للقول الثاني في مسألة الطعام اعتماده.وفي التتارخانية عن التهذيب أنه الصحيح وفيها عن الصغرى له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لا يسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح وفيها سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاث آلاف ولا تكفي لنفقته ونفقة عياله سنة؟ يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفا وعليه الفتوى وعندهما لا يحل اهـ ملخصا. اھ(باب المصرف، ج: 2، ص: 348، ط: سعید)
و فی الدر المحتار: حتی لو امر السلطان بعد سماع الدعوی بعد بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعھا لم ینفذ قلت: فلا تسمع الآن بعدھا إلا بأمر
و فی رد المحتار (تحت قوله: فلا تسمع الآن بعدها) أي لنهي السلطان عن سماعها بعدها فقد قال السيد الحموي في حاشية الأشباه: أخبرني أستاذي شيخ الإسلام يحيى أفندي الشهير بالمنقاري أن السلاطين الآن يأمرون قضاتهم في جميع ولاتهم أن لا يسمعوا دعوى بعد مضي خمس عشرة سنة سوى الوقف والإرث اهـ. ونقل في الحامدية فتاوى من المذاهب الأربعة بعدم سماعها بعد النهي المذكور ( ج: 5، ص: 419، ط: سعید)۔