زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس وقتی طور پر ناقابل استعمال زرعی زمین ہو تو اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
91909
| تاریخ :
2026-02-09
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

اگر کسی کے پاس وقتی طور پر ناقابل استعمال زرعی زمین ہو تو اسے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟

دو بھائیوں کے پاس ایک زیرِ کاشت زمین ہے، لیکن باہمی اختلاف اور زمین کے تنازع کی وجہ سے عدالت سے حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) جاری ہو چکا ہے، جس کی بنا پر دونوں میں سے کوئی بھی اس زمین کو استعمال نہیں کر سکتا۔ ان کی حالت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ وہ بمشکل اپنی روزمرہ ضروریات پوری کر پا رہے ہیں۔
کیا ایسی صورت میں ان میں سے ایک بھائی کی بیٹی کی شادی میں مدد کے لیے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں مذکورشخص اگر مالی اعتبار سے اس قدر کمزور ہوکہ اسکی ملکیت میں سونا، چاندی نقدی اور ضروریات اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو زکوۃ کی رقم سے اس کی معاونت کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، اور ایسا کرنے سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن له نصاب سائمة لا تساوي مائة درهم :وفی الرد (تحت قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة الخ (کتاب الزکوۃ باب المصرف ج:2،ص:347،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: ‌ولا ‌يجوز ‌دفع ‌الزكاة ‌إلى ‌من ‌يملك ‌نصابا من أي مال كان" لأن الغني الشرعي مقدر به والشرط أن يكون فاضلا عن الحاجة الأصلية وإنما النماء شرط الوجوب "ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك وإن كان صحيحا مكتسبا" لأنه فقير والفقراء هم المصارف ولأن حقيقة الحاجة لا يوقف عليها فأدير الحكم على دليلها وهو فقد النصاب الخ (کتاب الزکوۃ ‌‌باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز ،ج:1،ص:469،مط ،مکتبٰۃ البشریٰ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91909کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات