زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ،قرض دی ہوئی رقم اور انویسٹ کردہ رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
91977
| تاریخ :
2026-02-10
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پلاٹ،قرض دی ہوئی رقم اور انویسٹ کردہ رقم پر زکوۃ کا حکم

السلام علیکم
مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں زکوٰۃ کے حوالے سے۔میرا ایک اپنا گھر وہ ہے کہ جس پر میں رہایش پذیر ہوں۔ میں نے ایک پلاٹ خرید ا یہ سوچ کے کہ مستقبل میں وہاں اپنا گھر بناؤں گا. اور جب تک گھر نہیں بنتا، اس وقت تک اپنے موجودہ گھر میں رہوں گا۔ کیا پلاٹ کی مالیت پہ زکوٰۃ لازم ہوگی؟
دوسرا سوال:میں نے پلاٹ کی فائل خرید ی ہے، جس کی نا تو کوئی بیلٹنگ ہوئی اور نہ کوئی قبضہ ہے۔ ابھی بقایا رقم بیلٹنگ اور قبضہ کے وقت ادا کرنا ہے۔ کیا فائل کی مالیت زکوٰۃ کے نصاب میں شامل ہوگی؟
تیسرا سوال:میں نے کسی کو قرض دیا ہے، امید ہے جلدی واپس مل جائے گا، کیا قرض دی گئی رقم زکوٰۃ کے نصاب میں شامل ہوگی؟
آخری سوال: میں نے کسی کے ساتھ کاروباری شراکت داری میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اب تک ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو ا۔ کیا سرمایہ کاری کی گئی رقم نصاب میں شمار ہوگی؟
میں فوری جواب حاصل کرنے کے لئے شکر گزار ہوں گا۔جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(1) صورتِ مسؤلہ میں مذکور پلاٹ اگر مستقبل میں گھر بنا کر رہائش اختیار کرنے کی نیت سے خریدا ہے تو اس پلاٹ کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔
(2)سائل نے جو فائل خریدی ہے اگر اس کی پشت پر حقیقتاً بھی فائل میں تحریر کردہ تفصیلات کے مطابق زمین پر قبضہ موجود ہو اور سائل نے یہ فائل تجارت اور بیچنے کی نیت سے نہ خریدی ہو تو اس کی مالیت پر زکوٰۃ لازم نہیں ہے، البتہ اگر تجارت کی نیت سے ہو تو اس پر زکوٰۃ لازم ہوگی اگرچہ اس پر سائل کا قبضہ نہ ہو، تاہم زکوٰۃ کی ادائیگی قبضہ ملنے کے بعد کرنا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، مگر اس صورت میں گزشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
(4/3)قرض دی گئی رقم اور کاروبار میں لگائے گئے سرمایہ پر بھی (اگرچہ منافع نہ آئے ہوں لیکن سرمایہ محفوظ ہو) زکوٰۃ کی تاریخ آنے پر بقیہ اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدرالمختار:(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم(الى قوله) ويعتبر ما مضى من الحول قبلالقبض في الأصح،الخ(‌‌باب زكاة المال،ج:٢،ص:٣٠٥،ط:سعيد)
وفيه ايضاََ:(‌ولو ‌عجل ‌ذو ‌نصاب) ‌زكاته (‌لسنين ‌أو ‌لنصب ‌صح) ‌لوجود ‌السبب،(‌ولو ‌عجل ‌ذو ‌نصاب) ‌زكاته (‌لسنين ‌أو ‌لنصب ‌صح) ‌لوجود ‌السبب، وكذا لو عجل عشر زرعه أو ثمره بعد الخروج قبل الإدراك.اھ(‌‌باب زكاة الغنم،ج:٢،ص:٢٩٣،ط:سعيد)
وفي رد المحتارتحت:(قوله: ويعتبر ما مضى من الحول) أي في الدين المتوسط؛ لأن الخلاف فيه، ‌أما ‌القوي فلا خلاف فيه لما في المحيط من أنه تجب الزكاة فيه بحول الأصل، لكن لا يلزمه الأداء حتى يقبض منه أربعين درهما.( ‌‌باب زكاة المال،ج:٢،ص:٣٠٥،ط:سعيد)
‌وفي الهنديه:الزكاة ‌واجبة ‌في ‌عروض ‌التجارة ‌كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية.( الفصل الثاني في العروض،ج:١،ص:١٧٩،ط:ماجديه)
وفيہا ایضاََ: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة(الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة،ج:١،ص:١٧٨،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ:(ومنها فراغ المال) ‌عن ‌حاجته ‌الأصلية ‌فليس ‌في ‌دور ‌السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة، وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها إذا لم يكن للتجارة،(الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:١،ص:١٧٢،ط:ماجديه)
وفي البحرالرائق:وقدمنا ‌أن ‌المبيع ‌قبل ‌القبض ‌لا ‌تجب ‌زكاته ‌على ‌المشتري وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض، قيل: لا يكون نصابا؛ لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا؛ لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه، وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعا اهـ فعلى هذا قولهم: لا تجب الزكاة معناه قبل قبضه وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي،(شروط وجوب الزكاة،ج:٢،ص:٢٠٨،رشيديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91977کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات